میاں میر قادری کے صوفی اقوال
صوفیہ کی موت ان کے نفس کا مرنا ہے اور جب ان کا نفس مر جاتا ہے تو پھر وہ ابدالآباد تک زندہ ہی رہتے ہیں۔
دنیا سے تجرید و تفرید لازمی ہیں، جو تجرید میں کامل ہو جاتا ہے وہ جلد ہی اپنے مقصد کو پا لیتا ہے۔
صوفی وجد کی حالت میں ہوتا ہے تو اپنی ہستی سے خالی ہوتا ہے اور بقائے حق سے باقی۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ راہِ تصوف کی پہلی شرط کیا ہے؟ یہ ایک ہی ٹھوکر سے دونوں جہانوں کو نثار کر دینا ہے۔
حق کی طلب آسان نہیں، جب تک تم اس کی طلب میں یگانہ نہ ہو جاؤ گے اسے نہیں پا سکو گے۔
شریعت کے معاملات کی نگاہ داشت اور مرتبہ طریقت کے حصول کا سبب ہے اور طریقت بری خصلتوں سے باطن کو پاک کرنے اور مرتبۂ حقیقت کے ادراک کا موجب ہے اور حقیقت کیا ہے؟ وجود کو فال بنانا اور دل کو ماسوا اللہ سے خالی کرنا۔
جب صوفی کامل ہو جاتا ہے اور اس کا دل برے خیالات سے پاک ہو جاتا ہے تو کوئی چیز اسے نقصان نہیں پہنچا سکتی، وہ خود بادشاہ بن جاتا ہے اور دنیا کے تمام بادشاہ اس کے مطیع ہو جاتے ہیں۔
اگر دنیا خون اور مال و دولت سے بھر بھی جائے تب بھی مردِ خدا حلال چیز کے سوا کچھ نہیں کھاتا۔
صوفیہ کا تصرف زندگی میں اور موت کے بعد یکساں ہوتا ہے بلکہ مرنے کے بعد زیادہ اور بہتر ہوتا ہے۔
صوفی جب کامل ہو جاتا ہے اور اس کا دل خطرے سے پاک ہو جاتا ہے تو اسے کوئی چیز ضرر نہیں دے سکتی۔
سچا صوفی وہ ہے جس کی نظر میں پتھر اور نگینے برابر ہوں، جو خدا کے ساتھ ہوتا ہے، اسے کسی کی ضرورت نہیں۔
انسان تین چیزوں یعنی نفس، دل اور روح کا مجموعہ ہے، ان میں سے ہر ایک کی اصلاح خاص چیز سے ہوتی ہے، چنانچہ نفس کی اصلاح شریعت سے، دل کی طریقت سے اور روح کی حقیقت سے۔
اگر کسی نے دنیا کو چھوڑ دیا ہے لیکن اس کا ایک بھی خیال دنیاداری کی طرف مائل ہے تو وہ نہ آزاد انسان مانا جاتا ہے نہ زاہد، اس کی اندرونی نجاست ابھی باقی ہے۔
Mansur Hallaj was tess chivalrous that he disclosed Divine secret. There are such people in the folk of Allah, that if they drink oceans of Truth, they keep quiet and would never belch.
Mansur Hallaj was tess chivalrous that he disclosed Divine secret. There are such people in the folk of Allah, that if they drink oceans of Truth, they keep quiet and would never belch.
Two guests cannot be accommodated in one house.
Two guests cannot be accommodated in one house.
He would seldom discourse on the subject of tauheed to the common men; rather he would never open arcane secrets of divinity to them. Mian Mir would often read the following couplet (translation only):- Talk of tauheed (Divine Unity) is like illusion. O Son! Who can be saturated by the illusion! If a vulgar talks about tauheed, what will he get except defame.
He would seldom discourse on the subject of tauheed to the common men; rather he would never open arcane secrets of divinity to them. Mian Mir would often read the following couplet (translation only):- Talk of tauheed (Divine Unity) is like illusion. O Son! Who can be saturated by the illusion! If a vulgar talks about tauheed, what will he get except defame.
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere