منشی شنکر لال کا تعارف
منشی شنکر لال ساقی 10 دسمبر 1820ء کو سکندرآباد میں پیدا ہوئے، وہ منشی خوب چند کے صاحبزادے اور منشی ہرگوپال سہائے تفتہ کے چچازاد بھائی تھے، ان کا تعلق ایک معزز کائستھ خاندان سے تھا، عملی زندگی میں وہ سہارنپور کی ایک عدالت میں پیشکار کے منصب پر فائز رہے، ملازمت کی مصروفیات کے باوجود شعر و ادب سے ان کا تعلق کبھی منقطع نہ ہوا، شاعری کے ابتدائی دور میں وہ اپنا کلام منشی بال مکند بے صبر کو دکھایا کرتے تھے، منشی شنکر لال ساقی اپنے عہد کے ممتاز شعرا میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے مرزا غالب، مؤمن خاں مؤمن، شیخ ابراہیم ذوق، بہادر شاہ ظفر اور دیگر اکابرِ شعرا کے ساتھ متعدد مشاعروں میں شرکت کی، جس سے ان کے بلند ادبی مقام کا اندازہ ہوتا ہے، تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی انہوں نے قابلِ قدر خدمات انجام دیں، ان کی دو کتابیں "کریما" (شیخ سعدی کی معروف تصنیف کا منظوم ترجمہ) اور "انتخابِ کلیات" شائع ہوئیں، اس کے علاوہ اردو اور فارسی کے دو دیوان بھی ان کی یادگار ہیں، جبکہ وہ رامائن کی ترتیب و تدوین پر بھی کام کر رہے تھے، منشی شنکر لال ساقی اردو اور فارسی دونوں زبانوں کے صاحبِ دیوان شاعر تھے، انہوں نے دونوں زبانوں میں نعتیہ کلام بھی تخلیق کیا، جس میں حضور اکرم سے والہانہ عقیدت، ادب اور احترام کا نہایت مؤثر اظہار ملتا ہے، یہ باکمال شاعر و ادیب 10 دسمبر 1890ء کو اس دارِ فانی سے رخصت ہوگیا۔