Font by Mehr Nastaliq Web
Qazi Hameeduddin Nagauri's Photo'

قاضی حمیدالدین ناگوری

1183 - 1274 | ناگور, بھارت

خواجہ معین الدین چشتی کے مرید و مسترشد

خواجہ معین الدین چشتی کے مرید و مسترشد

قاضی حمیدالدین ناگوری کے صوفی اقوال

خدا کے وجود کے تمام فلسفیانہ دلائل کو مسترد کیا جانا چاہیے کیوں کہ ان کی بنیاد عقل پر ہے جو کہ بالذات خود نامکمل ہے۔

در اصل انسان نہ تو پوری طرح سے آزاد ہے اور نہ ہی پوری طرح سے مجبور، تمام انسانوں کی تخلیق خدا کی مرضی پر منحصر ہے لیکن وہ اپنا راستہ چننے کے لیے آزاد ہیں۔

جب محبوب کا کوئی نشان نہ رہے تو تم بھی بے نشان ہو جاؤ اور پھول کی خوشبو کی طرح پھول ہی میں چھپ جاؤ اور اسی جیسے نظر آؤ۔

خدا کی مرضی کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا جا سکتا، پھر بھی وہ انسان کی آزادی کے ارادے کو تسلیم کرتا ہے، انسان اپنی مرضی کے مطابق محدود معنی میں عمل کرنے کے لیے آزاد ہے۔

سالک کو فنا کی حالت میں حقیقت کا پتہ چلتا ہے، اس حالت میں پاک ذات کا علم ظاہر ہوتا ہے، دوسرے الفاظ میں کہا جائے تو عارف خدا کو تب پہچانتا ہے جب وہ خود سے جدا ہو جاتا ہے۔

تمام انسان ایک جیسے فطرت کے مالک نہیں ہوتے، کچھ لوگوں کی روح دوسروں سے بہتر اور زیادہ کامل ہوتی ہے اور وہ لوگ اپنی صلاحیتوں اور خواہشات کے مطابق اپنے کام کو انجام دیتے ہیں۔

جس شخص کو خدا کے ساتھ معاملہ نہیں ہے، اس کی بات کسی کے دل میں اثر نہیں کرتی۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے