Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

صابر لکھنوی

لکھنؤ, بھارت

کھیری میں اہلمدِ جوڈیشیل تھے اور شعر و سخن کے شائق ہونے کے ساتھ نعتیہ شاعری کا بھی ذوق رکھتے تھے، جس کا نمونہ 1898ء کے ’’گلدستۂ ابرِ سخن‘‘ میں محفوظ ہے۔

کھیری میں اہلمدِ جوڈیشیل تھے اور شعر و سخن کے شائق ہونے کے ساتھ نعتیہ شاعری کا بھی ذوق رکھتے تھے، جس کا نمونہ 1898ء کے ’’گلدستۂ ابرِ سخن‘‘ میں محفوظ ہے۔

صابر لکھنوی کا تعارف

تخلص : 'صابر'

اصلی نام : مادھو پرشاد

پیدائش :لکھنؤ, اتر پردیش

منشی مادھو پرشاد صابر لکھنوی تحصیل نگہاسن، کھیری میں اہلمد جوڈیشیل کے منصب پر فائز تھے، شعر و سخن سے بھی شغف رکھتے تھے اور نعتیہ شاعری میں خاص ذوق رکھتے تھے، ان کا ایک نعتیہ کلام مصرعِ طرح ’’بنایا تجھ کو خالق نے جو معدن اپنے مظہر کا‘‘ کی زمین میں ملتا ہے جو گلدستۂ ابرِ سخن امرتسر میں شامل ہے، یہ ادبی مجموعہ 1898ء میں شائع ہوا تھا۔

موضوعات

Recitation

بولیے