صبر لکھنوی کے اشعار
کوئی امید رہائی کی نہ تھی صبرؔ مجھے
ان کی زلفوں سے مقدر میں جو تھا دل نکلا
جس جگہ امن سمجھ کر میں ذرا جا بیٹھا
میری تقدیر سے وہ بھی در قاتل نکلا
بزم ماتم میں وہ گل لایا ہے ساتھ اغیار کو
میرے پھولوں میں کیا ہے اس نے شامل خار کو
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere