صفا لکھنوی کا تعارف
صفا لکھنوی اردو کے ان اہلِ قلم میں شمار ہوتے ہیں جن کی شخصیت میں علمی وجاہت، شعری کمال اور فنِ خطاطی کی نزاکتیں یکجا ہوگئی تھیں، وہ رائے پور چند کے فرزند رائے صاحب رام داروغۂ املاکِ شاہِ اودھ، موقوعہ دہلی کے چھوٹے بھائی اور مہاراجہ جھاؤ لال نائبِ نواب آصف الدولہ کے داماد تھے، نسب کے اعتبار سے ان کا تعلق کائستھوں کی سکسینہ شاخ سے تھا جو اپنے علمی و تہذیبی ذوق کے لیے معروف رہی ہے، صفا لکھنوی کو عربی و فارسی پر غیر معمولی دسترس حاصل تھی اور وہ فارسی و اردو دونوں زبانوں کے قادرالکلام شاعر تھے، بعض تذکرہ نگاروں نے انہیں میر تقی میر کا شاگرد قرار دیا ہے، جبکہ بعض کے نزدیک انہوں نے مصحفی سے کسبِ فیض کیا، بہرحال ان کی شعری تربیت کے بارے میں یہ مختلف روایات اس بات کی غماز ہیں کہ وہ اپنے عہد کی معتبر شعری روایت سے گہرا ربط رکھتے تھے، شاعری کے ساتھ ساتھ صفا لکھنوی کو خطاطی کے تقریباً تمام معروف اقسام میں مہارت حاصل تھی، عبدالغفور نساخ نے بھی انہیں صاحبِ دیوان شاعر قرار دیا ہے، ان کے کلام میں نعتیہ اشعار بھی ملتے ہیں جن سے ان کی مذہبی عقیدت اور قلبی وابستگی کا اظہار ہوتا ہے۔