شگفتہ لکھنوی کا تعارف
سندر لال شگفتہؔ لکھنوی ان خوش بخت اربابِ سخن میں شمار ہوتے ہیں جن کے حصے میں یہ سعادت آئی کہ آخری تاجدارِ مغلیہ بہادر شاہ ظفر کے زیرِ اہتمام منعقد ہونے والی ان بابرکت نعتیہ محفلوں میں حاضری کا شرف حاصل ہوا، جہاں شعر و سخن کو عشقِ رسالت کی خوشبو اور عقیدتِ رسول کی روشنی سے منور کیا جاتا تھا، ان کی نعتیہ شاعری بھی اسی مقدس اور قدیم روایت کی آئینہ دار ہے، جس میں محبتِ رسول، حسنِ عقیدت، ادبِ رسالت اور وارفتگیِ ایمان کو شعری اظہار کا مرکز و محور حاصل رہا ہے، راجا رشید محمود نے ماہنامہ نعت، لاہور کے خصوصی شمارے میں، قاضی محمد عمر مظفرنگری کی مرتب کردہ کتاب حدیثِ قدسی کے حوالے سے حضرت قدسی کی ایک مشہور نعت کے چار اشعار پر شگفتہؔ کی کہی ہوئی تضمین نقل کی ہے، یہ تضمین محض ایک استاد شاعر کے کلام پر طبع آزمائی نہیں بلکہ شگفتہؔ کے نعتیہ ذوق، شعری تربیت اور کلاسیکی نعتیہ روایت سے ان کی گہری قلبی و فنی وابستگی کی روشن شہادت ہے، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ شگفتہؔ نے نعت گوئی کو محض صنفی اظہار نہیں سمجھا بلکہ اسے عقیدت، محبت اور آدابِ رسالت کے ایک مقدس وسیلے کی حیثیت سے برتا۔