شاہ قمرالدین حسین کا تعارف
حضرت شاہ قمرالدین حسین ابوالعلائی تیرہویں صدی ہجری کے ممتاز صوفی، صاحبِ ارشاد بزرگ اور سلسلۂ ابوالعلائیہ کے جلیل القدر شیخ تھے، آپ کا تعلق پٹنہ کی معروف روحانی و علمی سرزمین سے تھا، آپ کی ولادت 1790ء میں ہوئی اور 1839ء میں وصال فرمایا، آپ کا مزار پٹنہ سٹی کے میتن گھاٹ میں مرجعِ خلائق ہے، جہاں عقیدت مند آج بھی حاضری دے کر روحانی فیوض و برکات حاصل کرتے ہیں۔
ابتدائی تعلیم و تربیت کے لیے آپ نے اپنے والد شاہ شمس الدین حسین داناپوری کے علاوہ مولانا شعیب الحق مسافر سے اکتسابِ علم کیا پھر حکیم شاہ فرحت اللہ کریم چکی کی صحبتِ بافیض سے مستفید ہوئے، بعد ازاں خواجہ ابوالبرکات ابوالعلائی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی سعادت حاصل کی اور انہی سے اجازت و خلافت سے سرفراز ہوئے۔
شاہ قمرالدین حسین ابوالعلائی اپنے عہد کے مشائخ میں نہایت ممتاز، محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے، آپ کی صحبت میں غیر معمولی تاثیر پائی جاتی تھی، چنانچہ دور دراز علاقوں سے طالبانِ حق آپ کے حلقۂ ارادت میں شامل ہونے کے لیے حاضر ہوتے تھے، آپ کے اخلاق، روحانی کمالات اور تربیتی فیضان نے بے شمار افراد کی زندگیوں کو منور کیا۔
آپ کے ملفوظات کو آپ کے خلفا و معتقدین نے مختلف مجموعوں میں مرتب کیا، جن میں انوارِ قمریہ اور اسرارِ قمریہ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، یہ کتب آپ کے افکار، روحانی تعلیمات اور تصوف کے دقیق نکات کا بیش بہا خزانہ ہیں، آپ کو شعر و ادب سے بھی گہرا شغف تھا اور آپ کا ذوقِ سخن اہلِ علم میں معروف تھا، آپ صاحبِ تصانیف بزرگ گزرے ہیں۔