Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Shah Qamruddin Hussain's Photo'

شاہ قمرالدین حسین

1788 - 1839 | پٹنہ, بھارت

پٹنہ سیٹی میں واقع میتن گھاٹ کے معروف صوفی اور تیرھویں صدی ہجری میں رشد و ہدایت کے لیے مشہور

پٹنہ سیٹی میں واقع میتن گھاٹ کے معروف صوفی اور تیرھویں صدی ہجری میں رشد و ہدایت کے لیے مشہور

شاہ قمرالدین حسین کے صوفی اقوال

باعتبار

اے عزیز! کسی کی نوکری کرتے ہوئے دوسرے پر حاکم ہو جاؤ تو ان پر جبر و ظلم نہ کرو اور خلق و مروت، رحمت و سخاوت کو اپنا وطیرہ بناؤ تاکہ سب تم سے خوش رہیں۔

اپنے پیر و مرشد کی صحبت سے جدا نہ ہو۔

معتقدوں اور مریدوں کی فتوحات پر زمانے کے مسائل اور پیر زادگان کی طرح گذارا نہ کرو اور اہلِ دنیا کی طرح مال جمع کرکے نہ رکھو۔

دنیا خدا سے غافل ہونا ہے، مال و دولت اور آل اولاد سے نہیں، ظاہری شان و شوکت فقیری کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہے سوائے اس کے کہ ان سے تعلق پیدا نہ کرے اور فقیروں کے لباس میں مال جمع کرنا دنیا داروں سے بھی بدتر ہے۔

غرور کا نتیجہ بدقسمتی و بدبختی ہے۔

جان لو کے زاہد اپنے تکبر اور بخیلی کی وجہ سے حق تعالیٰ کے دشمنوں میں شمار ہوگا اور فاسق اپنے عجز و سخاوت کی بنیاد پر حق تعالیٰ کے دوستوں میں شامل ہوگا۔

پیر کے فرمان کی قضا نہیں ہے۔

کسی بھی بزرگ اور عمر میں بڑے شخص سے آگے قدم نہیں بڑھانا چاہیے، تم تو جانتے ہو کہ دل میں خدائے تعالیٰ رہتا ہے اس لیے ہر دل کی تعظیم تمہاری بندگی کا تقاضہ ہے۔

دو چیزوں کے استعمال سے نسبت زائل ہوتی ہے اور پیران کا فیضان منقطع ہو جاتا ہے۔

(1) تاڑی

(2) مچھلی

اے عزیز! دین و دنیا کے سارے معاملے کا دار و مدار وساطت پر ہے۔

اپنی طبیعت میں حلم و بردباری پیدا کرو اور عاجزی و انکساری کو اپنا وطیرہ بنا لو۔

اہلِ دنیا سائل کو دیتے ہیں اور اہل و عیال کو بھی دیتے ہیں، یہ سخی کی صفت ہے، صوفیائے کرام اپنا وقت ہمیشہ بخشش و عطا میں صرف کرتے ہیں، یہ صفت جواد کی ہے۔

کبھی کسی دوست کی خاطر اپنے معمول کو ترک کر دینے میں ہرج نہیں ہے لیکن ترکِ معمولات کو عادت بنا لینا بہت نقصاندہ ہے۔

قدیم بزرگوں کے وہ پسندیدہ کام جن کا نتیجہ آخرت میں اجر و حسنات کی شکل میں ملے گا ان کو بدعتِ حسنہ کہتے ہیں اور جو کام ہمارے زمانے میں شامل ہوگیا اور اس کا نتیجہ برا ہوگا اس کو بدعت سئیہ کہتے ہیں۔

رشوت دینے والا اور رشوت قبول کرنے والا دونوں دوزخی ہیں۔

فیض کا دار و مدار صحبت پر ہے، جہاں تک ہو سکے سلسلے کے پیروں کی صحبت اختیار کرو۔

اپنے پیران کے عرس میں خود کی حاضری برکت کا باعث ہے، اے عزیز! اپنے اپنے پیر و مرشد کے عرس میں حاضری کو اپنے اوپر فرض سمجھو۔

فنا عین بقا ہے۔

پیر چار ہیں۔

پیر بیعت : جسے پیر دستگیر بھی کہتے ہیں، وہ ہے جس کے ہاتھ پر مرید شروع میں توبہ کرتا ہے اور رجوع ہوتا ہے۔

پیر تربیت : اس کو پیر و مرشد بھی کہتے ہیں جس بزرگ سے فیضِ تربیت حاصل ہو۔

پیر صحبت : اسے کہتے ہیں، جس بزرگ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان کی صحبت اختیار کرے، ان سے جو کچھ سنے یاد رکھے اور اسے اپنا دستور العمل قرار دے۔

پیر خرقہ : جس بزرگ سے کسی شخص کو نعمت سے معمور خرقۂ خلافت کی شکل میں عنایت ہو۔

کالے پاپوش کبھی بھی اپنے پیروں میں نہ پہنو اور کالے کپڑے اور لباس سے بھی پرہیز رکھو۔

درویشوں کے مقامات کے معاملہ میں مراتب کا فرق نہیں کرنا چاہیے۔

سالک کی عمر جو بھی ہو، 120 سال یا 60 سال اس کی کل عمر کا تین چوتھائی حصہ گذرنے کے بعد جب چوتھا حصہ باقی بچتا ہے تب اس میں بزرگی آتی ہے کیوں کہ اس کی بچی ہوئی عمر میں خوراک گھٹتی جاتی ہے اور نسبت لطیف ہوتی جاتی ہے۔

توکل کا معنی یہ ہے کہ خدا کو اپنا وکیل جانو۔

فقیر کو معاملاتِ دنیاوی میں حاکموں کے آگے ضمانت و شہادت کے لیے نہیں جانا چاہیے۔

اے بھائی! پیری و مریدی کا معاملہ بہت سخت ہے، اس زمانے کے مشائخ نے اسے آسان بنا دیا ہے۔

فقیر کو مختلف غذا ایک ساتھ نہیں کھانی چاہیے۔

فیض کی ترقی اور غلبہ تین چیزوں سے ہوتا ہے۔

(1) سماع سننے سے۔

(2) خوشبو سونگھنے سے۔

(3) خوبرو کو دیکھنے سے۔

وجد ہی ترقی کا باعث ہے۔

اے بھائی! مرید وہ ہے جو ہر حال میں پیر کے حکم کا پابند رہے اور پیر وہ ہے کہ ہر حالت میں مرید کی دستگیری کرے، اس زمانے میں پیر بھی کم نظر آتے ہیں اور مرید بھی نایاب ہیں۔

جو کوئی دوسرے کی برائی تمہارے پاس کرے اسے اپنی مجلس سے دور کرو۔

سب سے بڑی کرامت استقامت ہے۔

جب میت کو قبر میں رکھتے ہیں تو تین دنوں تک وہ میت حیران و پریشان رہتی ہے کہ اس مقام تک اس سے پہلے کبھی گذر نہیں ہوا تھا اور وہ اس عذاب حیرت میں رہتا ہے، اس کے لیے صلوٰۃ الحول پڑھنا چاہیے جس سے حیرانی و پریشانی میں راحت ملتی ہے۔

اللہ کے لیے جس چیز کو چھوڑا جاتا ہے، خود اللہ اس کا کفیل ہو جاتا ہے، اہل و عیال اور مریدوں سے بھی جب سالک محبت الٰہی کی وجہ کر بے نیاز ہو جاتا ہے تو ان دونوں کا اللہ تعالیٰ اس کے صدقے میں ترقی باطن بخشتا ہے۔

بزرگوں کا لباس اور شیطانوں کا کام، اس سے برا عمل اس دنیا میں اور کوئی دوسرا نہیں۔

پہلے خود کو شریعت کے مطابق کرو پھر منبر پر وعظ و نصیحت کے لیے قدم رکھو تب جا کر اثر ہوگا۔

جس کسی کو حق تعالیٰ کی جانب سے نعمتیں حاصل ہوں اس کے شکرانے میں اس کے بندوں پر احسان کرے۔

فقیری کا مدار کشف پر ہرگز نہیں۔

فقیر پر دوسروں کی طرح زینت حرام ہے۔

تین چیزوں سے تمام سلاسل میں نسبت کا زوال ہوتا ہے۔

(1) زنا

(2) شراب خوری

(3) پیر و مرشد سے برگشتہ ہونا

اس شہر میں قیام کرو جہاں قلب کو سکون ملے۔

بزرگوں کی باتیں سننا اصل دولت ہے یعنی بزرگوں کی ہدایت و نصیحت کا سننا دین و دنیا کی دولت ذریعہ ہے۔

فقیر تین قسم کے ہوتے ہیں۔

(1) فکیر ایسا گروہ ہے جو لوگوں کو فریب دے کر مال جمع کر رہے ہیں اور اس طرح کے لوگوں کا وقت فکرِ دنیا میں بسر ہوتا ہے۔

(2) فخیر یعنی شیخی اور فخر کرنے والے انہیں فقیر اور شیخ نہ سمجھو کیوں کہ ان کے کام خدا کے توکل پر اللہ کے واسطے نہیں ہیں، یہ اپنے اوپر فخر میں مغرور ہیں اور اپنی فضول خرچی میں مفتخر اور خوش ہیں۔

(3) فقیر یہ گروہ دنیا میں نایاب ہیں، ظاہر و باطن میں۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

Jashn-e-Rekhta | 8-9-10 December 2023 - Major Dhyan Chand National Stadium, Near India Gate - New Delhi

GET YOUR PASS
بولیے