Sufinama
noImage

شاہ تراب علی دکنی

1717 | بھارت

تخلص : 'ترابؔ'

اصلی نام : تراب علی

وفات : بھارت

شاہ تراب علی بیجاپوری
شاہ تراب علی جن کا نام تراب علی، تخلص ترابؔ اور لقب گنج الاسرار تھا۔ شاہ تراب کے نام سے معروف تھے۔ وہ اپنے دور کے فیض اثر صوفی اور ایک ایسے پرگو شاعر تھے جنہوں نے صوفیانہ فکر کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ ان کا ذکر کسی تذکرے یا تاریخ کی کتب میں نہیں ملتا وجہ یہ ہے کہ وہ ادبی مراکز سے دور ’ترنامل‘موضع چٹ پیٹ (ارکاٹ) میں رہتے تھے۔ تصوف ان کی زندگی کا محور اور شاعری ان کے لیے تصوف اور معرفت کی اشاعت کا ذریعہ تھی۔
شاہ تراب نے اپنے دیوان اور اپنی تصانیف میں ترابؔ تخلص استعمال کیا ہے۔ لیکن بعض اشعار میں بو ترابؔ، ترابیؔ اور بوترابیؔ بھی ملتا ہے مثلاً
واں تشنگی کہاں ہے جہاں آپ بو ترابؔ
بے جام آبدار ہو پھرتا ہے روز و شب (دیوان غزل )

آج ترابیؔ پیا بادۂ گل رنگ صنم
سن کے ہوا دل کباب کیف کی اس کی کیفیت  (دیوان غزل)

تو بس حق و حقیقت کا بیان بول
تو اب اے بو ترابیؔ سب عیاں بول  (گلزار وحدت)
شاہ تراب مدراس سے علاقے ’ترنامل‘ کے رہنے والے تھے ’ترنامل‘ سے بیجاپور آکر پیر پاشاہ حسینی کے مرید ہو گئے جو حضرت امین الدین علی اعلیٰ کے پڑپوتے تھے۔ یہ عشق مرشد میں اس قدر مبتلا تھے تھے کہ آبائی وطن کو بھول گئے اور بیجاپور میں رہنے لگے لیکن جب مرشد نے خلافت عطا کی تو ساتھ ہی ترنامل جانے کا حکم بھی دیا۔ انہوں نے ترنامل میں اپنا تکیہ قایم کیا اور اپنے سلسلۂ تصوف کی تبلیغ و اشاعت میں مصروف ہو گئے۔
ترنامل جنوبی ہند ارکاٹ  (جنوبی ہندتمل ناڈو کے شہر ویلور میں واقع) میں واقع ہےجو ہندو مندروں کے خوبصورت مناظر کے معروف ہے اورنگ زیب نے بیجاپور کو دو حصوں میں بانٹا تھا۔ ایک حصہ میں بیجاپور کرناٹک بالاگھاٹ اور دوسرا حصہ بیجاپور کرناٹک پاٹن گھاٹ تھا۔ اس وجہ سے اہل دکن آج بھی شاہ ترابؔ کوؔ بیجاپوری‘لکھتے ہیں۔ 
ان کے تصانیف میں سرفہرست ان کا دیوان ’دیوان تراب‘ ہے ۔ اپنے مرشد کے اسرار پر انہوں نے مثنوی ’گیان سروپ‘ تحریر کی۔ ظہور کلی، من سمجھاون، گلزار وحدت، گنج الاسرار اور آئینۂ کثرت وغیرہ بھی ان کے تصانیف کی فہرست میں شامل ہیں۔ 
شاہ تراب کا گھرانہ  صوفی گرانہ تھا اور ان کے آبا و اجداد بھی صوفی ہی تھے۔ انہوں نے علوم متداولہ کا اکتساب کیا تھا۔اردو، فارسی اور عربی زبانوں کے علاوہ مرہٹی اور دوسری علاقائی زبانوں سے بھی واقفیت رکھتے تھے۔ علم رمل انہوں نے اپنے مرشد سے حاصل کیاتھا۔ اس کے علاوہ منطق ، تصوف اور علم باطن و ظاہر میں وسیع النظر تھے جو ان کو اپنے مرشد سے ان کی خدمت کے درمیان حاصل ہوئی تھی۔

موضوعات