شیخ عبدالقادر جیلانی کے صوفی اقوال
اسے دیکھو جو تمہیں دیکھتا ہے،اس سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔
کم از کم چالیس دن کے لیے اپنے رب کے ساتھ خالص ہو جاؤ، تمہارے دل کی زبان سے معرفت اور حکمت کے چشمے جاری ہو جائیں گے۔
خواہ تم بات کرو یا خاموش رہو، ہمیشہ اچھی نیت سامنے رکھو، جو شخص کسی بھی عمل سے پہلے اچھی نیت نہیں رکھتا اس کا عمل باطل ہے۔
جو غصہ کرے متکبر ہے جو گالی دے کمینہ ہے جو بدلہ لے درندہ ہے لیکن جو معاف کرے وہ محبِ خدا ہے۔
غیر مفید کلام کو چھوڑ، مذہبی تعصب کو ترک کر اور ایسی چیز میں مشغول ہو جا جو دنیا و آخرت میں نفع دے۔
مستحق سائل خدا کا ہدیہ ہیں جو بندوں کی بھلائی کے لیے ان کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔
تم دوسروں کی رہنمائی کیسے کر سکتے ہو جب تم خود اندھے ہو؟ صرف بصیرت رکھنے والا شخص ہی دوسروں کی رہنمائی کرسکتا ہے۔
لوگ تجھے تکبر کرنے سے بڑا نہیں سمجھیں گے بلکہ تواضع اور سخاوت ہی تجھے معزز بنائے گی۔
اصل سچائی یہ ہے کہ تم وہاں بھی سچ بولو، جہاں جھوٹ بولے بغیر نجات ممکن نہ ہو۔
جو شخص علم کے بغیر عبادت کرتا ہے وہ اصلاح سے زیادہ فساد میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
جب خدا کسی بندے کو منصب ولایت پر فائز کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ذکر و قربت کا دروازہ کھول دیتا ہے پھر اسے کرسی توحید پر بٹھا کر پردے ہٹا دیتا ہے، پس وہ خدا کے جمال و جلال کا دیدار کرتا ہے اور دعویٰ نفس سے بری ہوجاتا ہے۔
موت سے پہلے یادِ خدا میں بہتری ہے، لوگوں کے فصل کاٹنے کے بعد ہل چلاتا اور بیج بونا بے فائدہ ہے۔
ہماری غیبت کرنے والے ہماری فلاح ہیں کہ ہم کو خراج دیتے ہیں اور اپنے اعمالِ صالحہ ہمارے اعمال نامہ میں منتقل کرا دیتے ہیں۔
تو غرور تکبر کس بات پر کرتا ہے، تیری ابتدا ایک گندہ قطرہ ہے اور آخر ایک مردار جسے پھینک دیا جاتا ہے۔
موٹے کپڑے اور موٹے کھانے سے فقیرانہ شان نہیں بڑھتی بلکہ زہد سے بڑھتی ہے، سچا کمبل پوش اول باطن پر کملی ڈالتا ہے پھر وہ ظاہر کی طرف متعدی ہو جاتی ہے۔
چاہے بولو یا خاموش رہو مگر اچھی نیت رکھو، جس نے کسی عمل سے پہلے اچھی نیت نہ رکھی اس کا عمل بے کار ہے۔
زندگی میں انسان کا مقام یہ ہے کہ وہ از خود فانی ہوکر مشیتِ ایزدی کی فضا میں دوبارہ جنم لے، یہی وہ زندگی ہے جس کا انجام موت نہیں یہی وہ راحت ہے جس کا انتہا الم نہیں۔
اگر تم پرہیزگار خدا پر بھروسہ کرنے والے اور مضبوط ایمان والے بننا چاہو تو صبر کو تھامے رکھو کیوں کہ صبر ہر فضیلت کی بنیاد ہے۔
جو شخص اپنا دوست نہیں رکھتا کہ اس سے اپنے دل کی بات کہہ سکے وہ مردم خور ہے جو اپنے دل کو کھاتا ہے۔
اسے دیکھو جو تمہیں دیکھتا ہے، اف سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔
موت سے پہلے یادِ خدا میں بہتری ہے، فصل کاٹنے کے بعد ہل چلانا اور بیج بونا بے فائدہ ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere