شیخ عبدالقادر جیلانی کے صوفی اقوال
زندگی میں انسان کا مقام یہ ہے کہ وہ از خود فانی ہوکر مشیتِ ایزدی کی فضا میں دوبارہ جنم لے، یہی وہ زندگی ہے جس کا انجام موت نہیں یہی وہ راحت ہے جس کا انتہا الم نہیں۔
جو غصہ کرے متکبر ہے جو گالی دے کمینہ ہے جو بدلہ لے درندہ ہے لیکن جو معاف کرے وہ محبِ خدا ہے۔
چاہے بولو یا خاموش رہو مگر اچھی نیت رکھو، جس نے کسی عمل سے پہلے اچھی نیت نہ رکھی اس کا عمل بے کار ہے۔
اسے دیکھو جو تمہیں دیکھتا ہے،اس سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔
جو شخص علم کے بغیر عبادت کرتا ہے وہ اصلاح سے زیادہ فساد میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
ہماری غیبت کرنے والے ہماری فلاح ہیں کہ ہم کو خراج دیتے ہیں اور اپنے اعمالِ صالحہ ہمارے اعمال نامہ میں منتقل کرا دیتے ہیں۔
تو غرور تکبر کس بات پر کرتا ہے، تیری ابتدا ایک گندہ قطرہ ہے اور آخر ایک مردار جسے پھینک دیا جاتا ہے۔
اسے دیکھو جو تمہیں دیکھتا ہے، اف سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔
اصل سچائی یہ ہے کہ تم وہاں بھی سچ بولو، جہاں جھوٹ بولے بغیر نجات ممکن نہ ہو۔
لوگ تجھے تکبر کرنے سے بڑا نہیں سمجھیں گے بلکہ تواضع اور سخاوت ہی تجھے معزز بنائے گی۔
موٹے کپڑے اور موٹے کھانے سے فقیرانہ شان نہیں بڑھتی بلکہ زہد سے بڑھتی ہے، سچا کمبل پوش اول باطن پر کملی ڈالتا ہے پھر وہ ظاہر کی طرف متعدی ہو جاتی ہے۔
غیر مفید کلام کو چھوڑ، مذہبی تعصب کو ترک کر اور ایسی چیز میں مشغول ہو جا جو دنیا و آخرت میں نفع دے۔
مستحق سائل خدا کا ہدیہ ہیں جو بندوں کی بھلائی کے لیے ان کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔
جو شخص اپنا دوست نہیں رکھتا کہ اس سے اپنے دل کی بات کہہ سکے وہ مردم خور ہے جو اپنے دل کو کھاتا ہے۔
اگر تم پرہیزگار خدا پر بھروسہ کرنے والے اور مضبوط ایمان والے بننا چاہو تو صبر کو تھامے رکھو کیوں کہ صبر ہر فضیلت کی بنیاد ہے۔
بہت سے دولت مند اسیر حرص ہونے کی وجہ سے مفلس و عریاں ہیں حقیقی بہادر وہ ہے جو دیوِ حرص کو پچھاڑ نے کے بعد متاعِ دنیا سے بے نیاز ہو جائے۔
جو شخص آسودہ حال ہمسائے سے حسد کرتا ہے وہ قسامِ رزق کی حکمت و دانش کا منکر ہے۔
اللہ والے طاعتیں کرتے ہیں اور اس پر بھی خوف رکھتے ہیں اور تم گناہ کرتے ہو مگر بے خوف ہو۔
حقیقت میں سچ یہ ہے کہ تم سچ وہیں بولو جہاں سے تمہیں بغیر جھوٹ بولے نجات نہ ملے۔
موت سے پہلے یادِ خدا میں بہتری ہے، فصل کاٹنے کے بعد ہل چلانا اور بیج بونا بے فائدہ ہے۔
جب خدا کسی بندے کو منصب ولایت پر فائز کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ذکر و قربت کا دروازہ کھول دیتا ہے پھر اسے کرسی توحید پر بٹھا کر پردے ہٹا دیتا ہے، پس وہ خدا کے جمال و جلال کا دیدار کرتا ہے اور دعویٰ نفس سے بری ہوجاتا ہے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere