Font by Mehr Nastaliq Web
Sheikh Abdul Qadir Jilani's Photo'

شیخ عبدالقادر جیلانی

1078 - 1166 | بغداد, عراق

سلسلۂ قادریہ کے بانی اور ممتاز صوفی

سلسلۂ قادریہ کے بانی اور ممتاز صوفی

شیخ عبدالقادر جیلانی کے صوفی اقوال

80
Favorite

باعتبار

اسے دیکھو جو تمہیں دیکھتا ہے،اس سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔

پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرو پھر دوسروں کو۔

کم از کم چالیس دن کے لیے اپنے رب کے ساتھ خالص ہو جاؤ، تمہارے دل کی زبان سے معرفت اور حکمت کے چشمے جاری ہو جائیں گے۔

خواہ تم بات کرو یا خاموش رہو، ہمیشہ اچھی نیت سامنے رکھو، جو شخص کسی بھی عمل سے پہلے اچھی نیت نہیں رکھتا اس کا عمل باطل ہے۔

جو غصہ کرے متکبر ہے جو گالی دے کمینہ ہے جو بدلہ لے درندہ ہے لیکن جو معاف کرے وہ محبِ خدا ہے۔

دنیا کی دولت اکٹھی کرنے کی ہوس انسانوں کو جلدبازی پر اکسانے والی چیز ہے۔

ناجائز کمائی دل کو مردہ کر دیتی ہے جب کہ جائز کمائی دل کو زندگی دیتی ہے۔

شروع کرنا تیرا کام ہے اور تکمیل کرنا خدا کا کام ہے۔

غیر مفید کلام کو چھوڑ، مذہبی تعصب کو ترک کر اور ایسی چیز میں مشغول ہو جا جو دنیا و آخرت میں نفع دے۔

مستحق سائل خدا کا ہدیہ ہیں جو بندوں کی بھلائی کے لیے ان کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔

برے لوگوں کی صحبت تمہیں نیک لوگوں کے بارے میں سوءِ ظن میں مبتلا کر دے گی۔

تم دوسروں کی رہنمائی کیسے کر سکتے ہو جب تم خود اندھے ہو؟ صرف بصیرت رکھنے والا شخص ہی دوسروں کی رہنمائی کرسکتا ہے۔

اے عمل کرنے والے اخلاص پیدا کر ورنہ فضول مشقت ہے۔

پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرو پھر دوسروں کو۔

شکستہ قبروں میں غور کر، کیسے کیسے حسینوں کی مٹی خراب ہو رہی ہے۔

دنیا کے سمندر سے بے خوف نہ ہو، اس میں بہت سے لوگ ڈوب چکے ہیں۔

خوش رہنا چاہتے ہو تو دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کرو۔

لوگ تجھے تکبر کرنے سے بڑا نہیں سمجھیں گے بلکہ تواضع اور سخاوت ہی تجھے معزز بنائے گی۔

اصل سچائی یہ ہے کہ تم وہاں بھی سچ بولو، جہاں جھوٹ بولے بغیر نجات ممکن نہ ہو۔

جو شخص علم کے بغیر عبادت کرتا ہے وہ اصلاح سے زیادہ فساد میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

اگر توحید گھر کے دروازے پر ہے اور شرک گھر کے اندر تو یہ بعینہٖ نفاق ہے۔

اللہ اور رسول کی محبت فقر و فاقہ سے ملی جلی ہوتی ہے۔

جب لوگ فصل کاٹ رہے ہوں تب بیج اور کھیتی کی باتیں کرنا بے معنی ہے۔

خدا کے دشمنوں کو راضی رکھنا عقل و دانش سے دور ہے۔

جب خدا کسی بندے کو منصب ولایت پر فائز کرنا چاہتا ہے تو اس کے لیے ذکر و قربت کا دروازہ کھول دیتا ہے پھر اسے کرسی توحید پر بٹھا کر پردے ہٹا دیتا ہے، پس وہ خدا کے جمال و جلال کا دیدار کرتا ہے اور دعویٰ نفس سے بری ہوجاتا ہے۔

جو غلام حکم کی تعمیل نہ کرے، ضروری ہے کہ وہ مالک کی خوشنوی سے محروم رہے۔

موت سے پہلے یادِ خدا میں بہتری ہے، لوگوں کے فصل کاٹنے کے بعد ہل چلاتا اور بیج بونا بے فائدہ ہے۔

دوسروں کو نصیحت کرنے سے پہلے اپنے آپ کو نصیحت کرو۔

ہماری غیبت کرنے والے ہماری فلاح ہیں کہ ہم کو خراج دیتے ہیں اور اپنے اعمالِ صالحہ ہمارے اعمال نامہ میں منتقل کرا دیتے ہیں۔

بے ادب خالق و مخلوق دونوں کا معتوب ہے۔

خلوت میں بولنا مردانگی نہیں، خلوت میں خاموش رہ۔

بے کار آدمی زمین پر بوجھ ہوتا ہے۔

تو غرور تکبر کس بات پر کرتا ہے، تیری ابتدا ایک گندہ قطرہ ہے اور آخر ایک مردار جسے پھینک دیا جاتا ہے۔

موٹے کپڑے اور موٹے کھانے سے فقیرانہ شان نہیں بڑھتی بلکہ زہد سے بڑھتی ہے، سچا کمبل پوش اول باطن پر کملی ڈالتا ہے پھر وہ ظاہر کی طرف متعدی ہو جاتی ہے۔

چاہے بولو یا خاموش رہو مگر اچھی نیت رکھو، جس نے کسی عمل سے پہلے اچھی نیت نہ رکھی اس کا عمل بے کار ہے۔

وعظ خالص خدا کے لیے کر ورنہ تیرا گناہگار رہنا ہی بہتر ہے۔

اپنے دل سے ہر ایک کو نکال دو کیوں کہ یہ خدا کا گھر ہے۔

توبہ کرنے کے بعد پھر گناہ کرنا ستر گناہوں کے برابر ہے۔

زندگی میں انسان کا مقام یہ ہے کہ وہ از خود فانی ہوکر مشیتِ ایزدی کی فضا میں دوبارہ جنم لے، یہی وہ زندگی ہے جس کا انجام موت نہیں یہی وہ راحت ہے جس کا انتہا الم نہیں۔

بیکار آدمی زمین پر بار ہوتا ہے۔

دنیا نام کے سمندر سے بے خوف نہ ہو، نہ جانے کتنے لوگ اس میں ڈوب گئے ہیں۔

اگر تم پرہیزگار خدا پر بھروسہ کرنے والے اور مضبوط ایمان والے بننا چاہو تو صبر کو تھامے رکھو کیوں کہ صبر ہر فضیلت کی بنیاد ہے۔

نعت مجھے اپنا پابند نہ بنا لے کہ منعم سے غافل کردے۔

جو شخص اپنا دوست نہیں رکھتا کہ اس سے اپنے دل کی بات کہہ سکے وہ مردم خور ہے جو اپنے دل کو کھاتا ہے۔

نفس کی تمنا پوری کرنے میں تو مصروف ہے اور وہ تجھے تباہ کرنے میں مصروف ہے۔

اسے دیکھو جو تمہیں دیکھتا ہے، اف سے محبت کرو جو تم سے محبت کرتا ہے، اس کی سنو جو تمہاری سنتا ہے، اپنا ہاتھ اسے دو جو تھامنے کے لیے تیار ہے۔

جس عمل میں تجھ کو حلاوت نہ آئے سمجھ لے کہ تو نے وہ عمل ہی نہیں کیا۔

فقیر وہ ہے جس کی دولت کا مالک خدا کے سوا کوئی نہیں ہوتا۔

موت سے پہلے یادِ خدا میں بہتری ہے، فصل کاٹنے کے بعد ہل چلانا اور بیج بونا بے فائدہ ہے۔

حقیقت میں سچ یہ ہے کہ تم سچ وہیں بولو جہاں سے تمہیں بغیر جھوٹ بولے نجات نہ ملے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے