Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شیخ عیسیٰ جنداللہ

1554 - 1622 | برہان پور, بھارت

ایک جید عالم، صوفی اور فارسی نثر و شاعری کے ممتاز ادیب تھے، جن کی علمی و ادبی خدمات برہان پور کی علمی روایت کا اہم سرمایہ ہیں۔

ایک جید عالم، صوفی اور فارسی نثر و شاعری کے ممتاز ادیب تھے، جن کی علمی و ادبی خدمات برہان پور کی علمی روایت کا اہم سرمایہ ہیں۔

شیخ عیسیٰ جنداللہ کا تعارف

تخلص : 'جنداللہ'

اصلی نام : عیسیٰ جنداللہ

پیدائش :امراوتی, مہاراشٹرا

وفات : مدھیہ پردیش, بھارت

رشتہ داروں : شیخ سلیمان سیفیؔ (بھائی)

شیخ عیسیٰ نام اور ابوالبرکات کنیت، جنداللہ، عین العرفان اور مسیح الاؤلیا القاب، جندی تخلص تھا، آپ کے آبا و اجداد کا اصل وطن سندھ کا قصبہ “پات” تھا، جہاں سے ہجرت کر کے برہان پور میں سکونت اختیار کی گئی، آپ کی ولادت 1554ء میں ایلچ پور میں ہوئی، آپ کا خاندان علم و ادب کا گہوارہ تھا، اسی لیے آپ نے دینی اور علمی ماحول میں پرورش پائی، ابتدائی تعلیم اپنے والدِ بزرگوار کی سرپرستی میں حاصل کی اور نو برس کی عمر میں قرآنِ مجید حفظ کر لیا، بعد ازاں تفسیر، حدیث اور فقہ کی اعلیٰ تعلیم شیخ طاہر محدث سے حاصل کی، مزید برآں آپ حضرت یوسف بنگالی کے حلقۂ درس میں بھی شامل رہے اور مختلف علوم و فنون میں مہارت حاصل کی، آپ کی علمی و ادبی تصانیف میں روضہ احسنی، عین معانی، اسرارالاسرار، رسالہ حواسِ پنجگانہ، حاشیہ بر اشارہ غیبیہ، شرح قصیدہ بردہ، رسالہ قبلۃ المذاہب، حاشیہ شرح ضیائیہ، فتح محمدی، تمیم شرح مأة عامل، رسالہ عقود، شرح رباعیات، اسرارالوحی وغیرہ شامل ہیں، علاوہ ازیں آپ کا ایک اہم رسالہ “دقیقہ” کا قلمی نسخہ کتب خانہ آصفیہ میں محفوظ ہے، برہان پور میں فارسی نثر اور شاعری کے میدان میں آپ کا گراں قدر علمی و ادبی سرمایہ آج بھی آپ کی عظمتِ علمی کا روشن ثبوت ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے