شیخ کلیم اللہ چشتی کے صوفی اقوال
کوئی شخص ہمیں برائی سے یاد کرتا ہے تو ہمیں اس سے کوئی شکایت نہیں اس لیے کہ ہم اس سے زیادہ برائی کے مستحق ہیں، اس نے لطف کیا اور ہمیں کم گالیاں دیں، ہم نے اسے معاف کر دیا تم بھی اسے معاف کر دو۔
’’ہمارا اور تمہارا کام’’ سکہ و نقد جنس جمع کرنا نہیں ہے بلکہ دلوں کا اکٹھا کرنا مقصود ہے۔
سب داخلانِ طریقت کو تاکید کرنی چاہیے کہ ظاہر کو شریعت سے آراستہ رہیں اور اپنا باطن عشق مولیٰ سے پیراستہ۔
محبت ہی ایک ایسی چیز ہے جس پر دنیا میں ایمان و عمل کی صحت و سقم کا دارومدار اور آخرت میں مجازات کا حصہ ہے۔
لوگوں کی جفا و قفا برداشت کریں اور لب نہ ہلائیں، ہمارا کام دلوں کو ایک جگہ کرنا ہے، اس میں جتنی بھی مشکلات پیش آئیں ان کو خندہ پیشانی سے برداشت کرنا چاہیے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere