طرز لکھنوی کا تعارف
رادھے بہاری سریواستو جو ریڈیو کے معروف فن کار تھے ان کے فرزند گنیش بہاری کا آبائی وطن لکھنؤ تھا، کائستھ خاندان سے تعلق رکھنے والے گنیش بہاری کی پرورش و پرداخت بھی لکھنؤ ہی کے علمی و تہذیبی ماحول میں ہوئی، انہوں نے 1943ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا اور تین برس بعد 1946ء میں محکمۂ سپلائی میں کلرک کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا، تعلیم کا سلسلہ ملازمت کے ساتھ بھی جاری رکھا اور 1949ء میں لکھنؤ یونیورسٹی سے بی اے کی سند حاصل کی، اسی سال انہیں پراپرٹی انسپکٹر کے منصب پر فائز کیا گیا، علمی جستجو نے انہیں مزید آگے بڑھایا اور 1951ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی، جس کے بعد جونپور میں اسسٹنٹ کسٹوڈین (جوڈیشل) کے فرائض انجام دینے لگے، طویل سرکاری ملازمت کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے وہ ترقی کی منازل طے کرتے رہے اور بالآخر 1986ء میں ڈپٹی چیف کنٹرولر، امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ کے منصب سے سبک دوش ہوئے، گنیش بہاری کی شخصیت کا ایک اہم اور دل آویز پہلو ان کا موسیقی سے گہرا شغف تھا، جس نے ان کے شعری ذوق کو بھی جلا بخشی، شعر و سخن کی دنیا میں ان کی باقاعدہ رہنمائی فضل نقوی نے کی، انہوں نے نہ صرف گنیش بہاری کے لیے تخلص ’’طرز‘‘ تجویز کیا بلکہ ان کے کلام پر اصلاح بھی دی، بعد ازاں گنیش بہاری نے سراج لکھنوی کے حلقۂ تلامذہ میں شمولیت اختیار کی اور ان کی صحبت و رہنمائی سے اپنے شعری ذوق کو مزید صیقل کیا، سراج لکھنوی کے انتقال کے بعد انہوں نے نور لکھنوی سے مشورۂ سخن کا سلسلہ قائم رکھا، گنیش بہاری کے شعری سرمایے میں نعتیہ کلام بھی شامل ہے جو ان کے مذہبی احساس اور قلبی عقیدت کا آئینہ دار ہے۔