Sufinama
Dara Shikoh's Photo'

دارا شکوہ

1615 - 1659 | دہلی, بھارت

مغلیہ سلطنت کے بادشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز کے بڑے صاحبزادے جنہوں نے صوفیانہ روایت کو مزید جلا بخشی، ان کے تعلقات سکھوں کے گرووں سے نہایت خوشگوار تھے۔

مغلیہ سلطنت کے بادشاہ شاہ جہاں اور ملکہ ممتاز کے بڑے صاحبزادے جنہوں نے صوفیانہ روایت کو مزید جلا بخشی، ان کے تعلقات سکھوں کے گرووں سے نہایت خوشگوار تھے۔

دارا شکوہ کا تعارف

تخلص : 'قادری'

اصلی نام : داراشکوہ

پیدائش : 01 Mar 1615 | اجمیر, راجستھان

وفات : 01 Aug 1659 | دہلی, بھارت

دارا شکوہ مغل شہنشاہ شہاب الدین شاہ جہاں اول اور ممتاز محل کا بڑا بیٹا اور مغل شاہزادہ تھا۔ مضافات اجمیر میں جمعہ 19 صفر 1024ھ مطابق 20 مارچ 1615ء کو پیدا ہوا۔ 1633ء میں ولی عہد بنایا گیا۔ 1654ء میں الہ آباد کا صوبے دار مقرر ہوا۔ بعد ازاں پنجاب، گجرات، ملتان اور بہار کے صوبے بھی اس کی عملداری میں دئے گئے۔ 1649ء میں قندھار پر ایرانیوں نے قبضہ کر لیا۔ سلطنت دہلی کی دو فوجی مہم انھیں وہاں سے نکالنے میں ناکام رہی تو 1653ء میں دارا شکوہ کو خود اس کے ایما پر قندھار بھیجا گیا۔ اس جنگ میں اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور بحیثیت کمانڈر اس کی شخصیت مجروح ہوئی۔ دارا شکوہ نے شاہ محمد دلربا کے نام اپنے ایک خط میں واضح طور پر تسلیم کیا ہے کہ وہ سرمد، بابا پیارے، شاہ محمد دلربا، میاں باری، محسن فانی کشمیری، شاہ فتح علی قلندر، شیخ سلیمان مصری قلندر اور شاہ محب اللہ صابری الہ آبادی جیسے صوفیا کا دلدادہ تھا اور ان سے خاصی عقیدت بھی رکھتا تھا۔ دارا شکوہ سرمد جیسے بزرگ کا شاگرد تھا۔ فارسی زبان بہت اچھی جانتا تھا۔ وہ خطاط اور ایک بہترین مصنف ہوا ہے۔ 11 ذوالحجہ 1069ھ موافق 30 اگست 1659ء کو وفات پا ئی اور مقبرہ ہمایوں (دہلی) میں دفن ہوا۔

موضوعات

Recitation

aah ko chahiye ek umr asar hote tak SHAMSUR RAHMAN FARUQI

بولیے