جو لوگ خدا کے آگے گردنِ تسلیم و رضا خم کئے ہوئے ہیں وہ مصیبت و بلا کو بلا کی صورت میں نہیں دیکھ سکتے۔
شیئر کیجیے
توکل کے یہ معنی نہیں کہ ترکِ اسباب کر کے بیٹھ جائے، یہ خود بے ادبی ہے لیکن کتابت وغیرہ کا کوئی سبب یعنی پیشہ مقرر کر لے، سبب پر نظر رکھنی چاہیے، سبب کو مثل دروازہ کے خیال کرنا چاہیے کہ خدا نے واسطے حصولِ سبب کے مقرر کیا ہے۔
شیئر کیجیے
دوامِ مراقبہ بڑی دولت ہے کہ اس سے دلوں میں قبولیت پیدا ہوتی ہے اور دلوں میں قبولیت پیدا ہونی خدا کی قبولیت کی نشانی ہے۔
شیئر کیجیے
صبر لذاتِ نفس سے نکل جانے اور مرغوب و محبوب اشیا سے باز رہنے کو کہتے ہیں۔
شیئر کیجیے
قناعت فضول چیزوں سے نکل جانے اور بقدرِ حاجت پر اکتفا کرنے اور کھانے پینے اور رہنے کی چیزوں میں اسراف سے پرہیز کو کہتے ہیں۔
You have exhausted 5 free content pages per year. Register and enjoy UNLIMITED access to the whole universe of Urdu Poetry, Rare Books, Language Learning, Sufi Mysticism, and more.