Sufinama
Khwaja Muinuddin Chishti's Photo'

خواجہ معین الدین چِشتی

1142 - 1236 | بھارت

تخلص : 'معینؔ'

اصلی نام : معین الدین حسن

پیدائش :ہرات,

وفات : بھارت

خواجہ معین الدین اجمیری  کو ہندوستان کا روحانی بادشاہ  کہاجاتاہے۔ ان کے والد کا سلسلہ نسب حضرت محمدؐ کے نواسے حضرت حسین سے ملتا ہے۔ ان کے والد کا نام غیاث الدین حسن تھا۔ سیستان کے علاقہ سجز سے ان کی گہری وابستگی تھی۔ ان کے والد اپنے عہد کے ایک قابل عالم اور صاحب ثروت انسان تھے۔ ان کی والدہ کا تعلق بھی خاندان سادات سے  تھا۔ ان کا  سلسہ نسب بھی حضور اقدسؐ کے نواسے حضرت حسن سے ملتا ہے۔ ان کی والدہ کا نام ام الورع تھا۔وہ بی بی ماہ نور کے نام سے موسوم ہیں۔

 خواجہ معین  الدین کا خاندان دینی اور مذہبی تھا۔ والد کے اثر نے ان کو بچپن سے ہی دینی کاموں کی طرف راغب کیا۔ ان کے عہد میں نیشاپور ایک علمی اور ادبی مرکزتصور کیا جاتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم نیشاپور میں حاصل کی۔ خواجہ معین الدین ابھی چودہ برس  کے ہی تھے کہ والد  کاسایہ سر سے  اٹھ گیا ۔ والد کے وصال کے بعد ان کو والد کی ملکت میں سے ایک انگور کا باغ اور ایک پن چکی ملی۔ انہوں نے زراعت کرنا شروع کر دیا اور انگور کے باغ کی باغبانی کرنے لگے اور اسی کو اپنا ذریعہ معاش بنایا۔

حضرت ابراہیم قندوزی  اس عہد کےایک ولی اللہ تھے ۔ ان کے مشورہ پر خواجہ صاحب نے اپنا سارا ورثہ فروخت کر دیا اور تعلیم کی تلاش میں لگ گئے۔

اس عہد میں سمر قند اور بخارا علمی مرکز ہوا کرتے تھے۔ اعلیٰ تعلیم کی غرض سے وہ سمرقند تشریف لے گئے ۔وہاں  ایک مدرسہ میں داخل ہو کر قرآن کی تعلیم شروع کر دی ۔ مدرسہ میں مولانا اشرف الدین جسے جید عالم دین سے علم دین حاصل کیا۔ پھربخارا کا رخ کیا اور  مولانا شیخ حسام الدین بخاری کی خدمت میں زانوئے تلمذ ےتہہ کیا۔اور ان سے ہی تفسیر قرآن، حدیث ، فقہ اور علوم معقولات و منقولات حاصل کیا۔  دستار فضیلت بھی مولانا حسام الدین بخاری سے حاصل کی۔ تقریباً پانچ سال تک بخارا میں مقیم  رہے۔

اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد نیشاپور کے قریب قصبہ ہارون گئے۔ وہاں خواجہ عثمان ہارونی کے دربار میں حاضر ہوئے۔ خواجہ عثمان ہارونی  ایک عظیم المرتبت بزرگ تھے۔ ان کا تعلق سلسلۂ چشتیہ سے تھا۔ خواجہ عثمان ہارونی نے ان کی لیاقت، استعداد اور حوصلہ کو دیکھ کر انہیں اپنے حلقۂ ارادت میں شامل کرلیا۔

خواجہ معین الدین سلوک و عرفان کی منزل طے کرنے اور خواجہ عثمان ہارونی کے فیضان سے مستفیض ہو نے کے بعد  اپنے وطن تشریف لے گئے پھر۔ وہاں سے بیت اللہ اور روضۂ اطہر کی زیارت کے لیے نکل پڑے۔ وہاں پرانہوں نے اپنے باطن کی آواز سنی اور ہندوستان آنے کا فیصلہ کیا ۔

خواجہ معین الدین چشتی  نے زندگی کا کچھ حصہ سیر و سیاحت میں بھی گزارا۔ انہوں نے خراسان، سمرقند، بغداد ، عراق، عرب، شام، بصرہ، دمشق، اصفہان، ہمدان، تبریز اور کرمان  وغیرہ  کا بھی سفر کیا۔ وہ کچھ مواقع پر اپنے مرشد کے ساتھ شریک سفر رہے۔

سفر ہندوستان کے درمیان وہ  بہت سارے اکابرین اور اولیائے کرام کی صحبت سے فیضیاب ہوتے ہوئے لاہور پہنچے۔  یہاں انہوں نے حضرت سید علی بن عثمان ہجویری معروف بہ داتا گنج بخش کے مزار پر حاضری دی اور اپنے ارادت مندوں کے ہمراہ اسی مزار کے سامنے چلہ کیا۔ جہاں  پر انہوں نے چلہ کیا تھا وہ جگہ آج بھی حضرت داتا گنج بخش کی مزار کے سامنے ایک حجرہ کی شکل میں موجود ہے۔ چلہ پورا کرنے کے بعدانہوں نے وہاں  چند روز قیام کیا۔ اس کے بعد اجمیر کی طرف کوچ کیا۔ اجمیر پہنچنے تک لوگوں نے  راستے میں ان کے بہت سارے کرامات  کا مشاہدہ کیا۔

خواجہ معین الدین نے ریاضت و عبادت کی مشغولیت کی بنا پر جوانی میں شادی نہیں کی۔  ایک اچھی خاصی عمر گزر جانے کے بعد صرف اتباع رسول کے لیے انہوں نے دو شادیاں کیں۔ان کی  ایک زوجہ امتہ اللہ تھیں۔ ان کے بطن سے  ایک بیٹی بی بی حافظہ جمال پیدا ہوئیں۔ دوسری  زوجہ عصمت اللہ  تھیں۔ ان سے تین بیٹے خواجہ فخرالدین ابوالخیر، خواجہ حسام الدین ابو صالح اور خواجہ ضیأء الدین ابو سعید  پیدا ہوئے۔ انہوں نے 94سال کی عمر میں 1235 عیسوی میں اجمیر میں انتقال ہوا۔

علم و عرفان سے مملو خواجہ معین الدین کے کچھ اقوال و ارشادات حسب ذیل ہیں:

1: مصیبت اور سختی کاآنا صحت اور ایمان کی علامت ہے۔

2: عقلمند دنیا کا دشمن اور اللہ کا دوست ہے۔

3: بد ترین شخص وہ ہے جو توبہ کی امید پر گناہ کرے۔

4: وہ ضعیف ترین ہے جو اپنی بات پر قائم رہے۔

5: کائنات میں صرف ایک چیز نور خدا موجود ہے اور تمام غیر موجود۔

6: دشمن کو دل کی مہربانی اور احسان سے اور دوست کو نیک سلوک سے جیت لو۔

7: عارفین کا توکل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی غیر سے مدد نہ چاہیں اور کسی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔

8: بھوکے کو کھانا کھلایا ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنا اور دشمن کے ساتھ نیک سلوک کرنا نفس کی زینت ہے۔

خواجہ معین الدین کے تصانیف حسب ذیل ہیں: انیس الارواح، دیوان معین، گنج الاسرار، حدیث المعارف، رسالہ وجودیہ، رسالہ آفاق نفس، رسالہ تصوف الہامات، کشف الاسرار معروف بہ معراج الانوار اور مکتوبات۔

ماخذ: دیوان معین الدین چشتی، مترجمین: محمد محسن و اعزاز احمد آذرؔ

 

Added to your favorites

Removed from your favorites