Font by Mehr Nastaliq Web
Makhdoom Khadim Safi's Photo'

مخدوم خادم صفی

1814 - 1870 | اناو, بھارت

صفی پور کے مشہور اور با فیض بزرگ

صفی پور کے مشہور اور با فیض بزرگ

مخدوم خادم صفی کے صوفی اقوال

باعتبار

اگر سب کچھ صرف علم و عبادت پر منحصر ہوتا تو شیطان راندۂ درگاہ نہ کیا جاتا، بلکہ سب کچھ عنایتِ الٰہی پر منحصر ہے۔

جہاں شمع ہوتی ہے وہاں پروانوں کا جمع ہونا ناگزیر ہے۔

مرید وہی ہے جس میں مرشد کی بو آتی ہو، شاخ میں جب تک قلم نہیں لگتی اس میں لذیذ پھل نہیں آتا۔

حق تعالیٰ کریم ہے جب بندہ اس کی درگاہ میں خلوص پیش کرتا ہے تو اس کی درگاہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کے صدق عمل سے اس کی جزا سے اسے محروم رکھے۔

آدمی کے لیے قوت مقدم ہے، اگر قوت جاتی رہی مجاہدہ ممکن نہیں اور ماں کے دودھ کی قوت چالیس سال تک رہتی ہے، بعد اس کے غذا کی قوت ہے منشا اس سے یہ ہے کہ ’’جوانی کو غنیمت جانو‘‘

جو آنکھ والے ہیں اؤلیا کے مزار پر بے ادبی نہیں کرتے پھر آخر ان لوگوں کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں جو ایسا کرتے ہیں۔

وجد میں آدمی بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ بے خود ہو جاتا ہے، اگر بے ہوش ہوگیا تو لطف جاتا رہتا ہے۔

توجہ اس کا نام ہے کہ ایک نگاہ تمام عمر کے لیے کافی ہو جائے۔

لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم شیخ زادے اور پیر زادے ہیں! در اصل یہی چیز راستے کی رکاوٹ ہوتی ہے۔

بندہ رضائے مولیٰ کے خلاف کام کر ہی نہیں سکتا۔

اعتقاد کی کمزوری سے کسی عمل کا تکملہ نہیں ہو پاتا۔

لوگ جو ہمارے پاس آتے ہیں نرمی اور مدارات کی وجہ سے آتے ہیں، اگر ایک دن بھی ان کی طرف نظرِ التفات نہ کروں تو کوئی نہ آئے۔

اگر ضرورتاً وہاں جانا پڑے گا جہاں نہ جانا چاہیے تو یہ خیال کرے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ رفع حاجت کے لیے انسان کو جانا پڑتا ہے جو ناگزیر ہے، پس اس سے دلگیر نہ ہو۔

انسان کے کام کا دار و مدار سمجھ پر ہے، اس کی سمجھ ہی سب کچھ ہے، جس کا پختہ ہونا شرط ہے تا کہ کام کی صورت نکلے۔

مذہب کے جھگڑے میں نہ پڑنا چاہیے اور امر و نہی پر کاربند رہنا چاہیے، جو اپنے کو فرعون سمجھتا ہے اس کا حشر بھی اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔

جو کچھ ہے وہ عمل پر موقوف ہے، جسے عمل میں نہ لائیں وہ فائدہ مند کیسے ہو۔

ایک دشنام (گالی) چالیس دن کی عبادت کا ثواب ضائع کر دیتے ہے۔

جو گزر گیا پھر واپس نہیں آتا، انسان کا ہونا غنیمت ہے۔

جو پیرو شریعت ہو اور طریقِ سنت و جماعت پر کاربند ہو، تعصب نہ رکھتا ہو اور سلسلہ اس کا صحیح اور درست ہو تو طالب کو ایسے شخص سے بیعت کر لینے میں پس و پیش نہ کرنا چاہیے، گو یہ تینوں امور تفصیل کے محتاج ہیں۔

اول یہ کہ بعض باتیں فقہا اور مشائخ کے مابین متنازع فیہ ہیں مثلاً وحدت الوجود اور سماع، حالاں کہ ظاہر میں یہ مختلف فیہ ہو باطن میں ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے۔

دوم یہ کہ تعصب کرنا درویشی کے خلاف ہے۔

سوم یہ کہ اگر مسلک صحیح منقطع ہوگیا تو فیض کا تعلق بھی ختم ہوا، لہٰذا مناسب حال طالب یہ ہے کہ اگر شیخ کو ان صفاتِ شرعیہ سے متصف دیکھے اور اس میں سماع یا وحدت الوجود کا بھی مشاہدہ کرے تو اس سے منکر نہ ہو، اتنا کافی ہے کہ خود ان کا اقرار نہ کرے اور خود نہ سنے جب تک کہ خود اس کا راز اس پر نہ کھل جائے اور اگر کسی میں تعصب دیکھے تو سمجھ لے کہ ابھی مخمصہ نفس اس میں باقی ہے، سلوک کہاں اور اگر تسلسل سلسلہ کسی کا حضرت رسول اللہ تک نہ پہنچتا ہو تو اسے یہ یقین کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا جملہ اربابِ طریقت کے نزدیک درست نہیں۔

رازقِ مطلق چینٹی اور کیڑے مکوڑے کو روزی دیتا ہے، تعجب ہے جو اشرف المخلوقات کو روزی نہ دے لیکن انسان کو صبر درکار ہے۔

اس زمانہ میں جو ایک مرید کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ایک موضع کا حاصل اس کے ہاتھ آ گیا اور میرے نزدیک یہ ہے کہ شخص کو مرید کرنا ایک موضع کی ذمہ داری اور ایک موضع کا مواخدہ اپنے سر دھرتا ہے۔

بزرگوں کے مزار پر سوائے آیاتِ رحمت کے آیاتِ غضب نہ پڑھنا چاہیے۔

ہر فن کے لیے ایک استاد درکار ہے اور جو کام بلا تعلیم استاد کیا جاتا ہے وہ معتبر نہیں۔

جو شخص اپنی نا واقفیت سے مشائخ کے قول کو رد کرے اس سے لڑنا نہ چاہیے وہ بے چارہ معذور ہے اور اپنے باطن سے بیگانہ۔

جس قدر دل کی صفائی زیادہ ہوتی جاتی ہے، اسی قدر نفس پر قابو بڑھتا جاتا ہے۔

کسی کی بابت برا کہنا اگرچہ کہنے والا پر تاثیر ہی کیوں نہ ہو شانِ فقیری کے خلاف ہے۔

کوئی شخص اگر آسمان میں اڑے اور ذرہ برابر شریعت کی خلاف ورزی کرے تو وہ قابلِ اعتبار نہیں، اس کے کشف و کرامت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔

اگر کوئی پیش کرے تو چاہیے کہ اسے خدا کی طرف سے سمجھ کر لے لے، واپس نہ کرے۔

لوگ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم شیخ زادے اور ہم پیر زادے ہیں اور یہی باتیں سد راہ ہو جاتی ہیں۔

وجد میں آدمی بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ بے خود ہو جاتا ہے، اگر بیہوش ہوگیا تو لطف جاتا رہا۔

عصا اپنے ساتھ ضرور رکھنا چاہیے۔

جو کوئی نمازِ جماعت کا امام ہوا اس کو قرأت کے مطابق انتہائی صحبت کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ بہت خرابی ہے۔

خدا اپنے بندہ میں اس صفت کے ساتھ موجود ہے جس صفت کے ساتھ بندہ نے اس کو پہچانا ہے۔

یار کی گالیاں مٹھائی ہیں، وہی جانے گا جس نے کھائی ہیں۔

’’مریدی‘‘ وہ چیز ہے کہ بوقت عظیم یعنی مرتے وقت کام آتی ہے۔

ڈھولک کی تھاپ سماع کے وقت دل پر پڑتی ہے اور وہ ایک دھوکتی ہے جو دل کی آگ کو بھڑکا دیتی ہے۔

بعض لوگ یہ تک نہیں جانتے کہ قضائے حاجت کے بعد کتنے ڈھیلے استعمال کرنا چاہیے اور کیوں کر استعمال کرنا چاہیے، یہ بے باک لوگوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں ان پر افسوس ہے۔

جوان صالح کو خدا اپنی امان میں رکھتا ہے اور چشم پوشی فرماتا ہے۔

مرید اگر ظاہری شکل و صورت بھی اپنے پیر کی طرح نہ کر سکا تو اس سے آگے اور کیا ہوسکتا ہے۔

اگر کوئی کچھ پیش کرے تو چاہیے کہ اسے خدا کی طرف سے سمجھ کر لے لے واپس نہ کرے۔

جو بیگانہ ہو اس سے طریقت کی راہ کی باتیں نہ کریں، جب تک کہ وہ ان سے مانوس اور ان کی طرف رجوع نہ ہو۔

تعلیم بہر صورت مفید و فائدہ مند ہے کیوں کہ ممکن ہے کسی وقت ہمت یاری کرے اس وقت تعلیم کی ضرورت نہ رہے گی اور وہ اپنا کام نکال لے گا۔

مردانِ خدا تین طرح کے ہوتے ہیں۔

ایک وہ کہ خدا کے نزدیک وہ دل ہیں اور وہ اپنی ولایت سے بے خبر ہیں۔

دوسرے وہ کہ خدا کے نزدیک وہ دلی میں اور وہ خود بھی اسے جانتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔

تیسرے وہ کہ خود بھی اسے جانتے ہیں اور لوگ بھی اسے جانتے ہیں اور خدا کے یہاں بھی وہ دل ہیں۔

فقیر کو باوجود اختلافِ مذہب کسی سے کج خلقی سے پیش نہ آنا چاہیے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے