تمام
غزل34
تعارف
کلام7
فارسی کلام1
راگ آدھارت پد92
بھجن4
صوفی اقوال44
نعت و منقبت13
قطعہ2
گاگر15
بسنت14
ساون10
ہولی45
مخدوم خادم صفی کے صوفی اقوال
اگر سب کچھ صرف علم و عبادت پر منحصر ہوتا تو شیطان راندۂ درگاہ نہ کیا جاتا، بلکہ سب کچھ عنایتِ الٰہی پر منحصر ہے۔
مرید وہی ہے جس میں مرشد کی بو آتی ہو، شاخ میں جب تک قلم نہیں لگتی اس میں لذیذ پھل نہیں آتا۔
حق تعالیٰ کریم ہے جب بندہ اس کی درگاہ میں خلوص پیش کرتا ہے تو اس کی درگاہ سے یہ ممکن نہیں ہے کہ اس کے صدق عمل سے اس کی جزا سے اسے محروم رکھے۔
آدمی کے لیے قوت مقدم ہے، اگر قوت جاتی رہی مجاہدہ ممکن نہیں اور ماں کے دودھ کی قوت چالیس سال تک رہتی ہے، بعد اس کے غذا کی قوت ہے منشا اس سے یہ ہے کہ ’’جوانی کو غنیمت جانو‘‘
جو آنکھ والے ہیں اؤلیا کے مزار پر بے ادبی نہیں کرتے پھر آخر ان لوگوں کی آنکھیں کیوں نہیں کھلتیں جو ایسا کرتے ہیں۔
وجد میں آدمی بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ بے خود ہو جاتا ہے، اگر بے ہوش ہوگیا تو لطف جاتا رہتا ہے۔
لوگ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ ہم شیخ زادے اور پیر زادے ہیں! در اصل یہی چیز راستے کی رکاوٹ ہوتی ہے۔
لوگ جو ہمارے پاس آتے ہیں نرمی اور مدارات کی وجہ سے آتے ہیں، اگر ایک دن بھی ان کی طرف نظرِ التفات نہ کروں تو کوئی نہ آئے۔
اگر ضرورتاً وہاں جانا پڑے گا جہاں نہ جانا چاہیے تو یہ خیال کرے کہ یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ رفع حاجت کے لیے انسان کو جانا پڑتا ہے جو ناگزیر ہے، پس اس سے دلگیر نہ ہو۔
انسان کے کام کا دار و مدار سمجھ پر ہے، اس کی سمجھ ہی سب کچھ ہے، جس کا پختہ ہونا شرط ہے تا کہ کام کی صورت نکلے۔
مذہب کے جھگڑے میں نہ پڑنا چاہیے اور امر و نہی پر کاربند رہنا چاہیے، جو اپنے کو فرعون سمجھتا ہے اس کا حشر بھی اسی کے ساتھ ہوتا ہے۔
جو پیرو شریعت ہو اور طریقِ سنت و جماعت پر کاربند ہو، تعصب نہ رکھتا ہو اور سلسلہ اس کا صحیح اور درست ہو تو طالب کو ایسے شخص سے بیعت کر لینے میں پس و پیش نہ کرنا چاہیے، گو یہ تینوں امور تفصیل کے محتاج ہیں۔
اول یہ کہ بعض باتیں فقہا اور مشائخ کے مابین متنازع فیہ ہیں مثلاً وحدت الوجود اور سماع، حالاں کہ ظاہر میں یہ مختلف فیہ ہو باطن میں ہیں ان میں اختلاف نہیں ہے۔
دوم یہ کہ تعصب کرنا درویشی کے خلاف ہے۔
سوم یہ کہ اگر مسلک صحیح منقطع ہوگیا تو فیض کا تعلق بھی ختم ہوا، لہٰذا مناسب حال طالب یہ ہے کہ اگر شیخ کو ان صفاتِ شرعیہ سے متصف دیکھے اور اس میں سماع یا وحدت الوجود کا بھی مشاہدہ کرے تو اس سے منکر نہ ہو، اتنا کافی ہے کہ خود ان کا اقرار نہ کرے اور خود نہ سنے جب تک کہ خود اس کا راز اس پر نہ کھل جائے اور اگر کسی میں تعصب دیکھے تو سمجھ لے کہ ابھی مخمصہ نفس اس میں باقی ہے، سلوک کہاں اور اگر تسلسل سلسلہ کسی کا حضرت رسول اللہ تک نہ پہنچتا ہو تو اسے یہ یقین کے ساتھ سمجھ لینا چاہیے کہ اس کے ہاتھ پر بیعت کرنا جملہ اربابِ طریقت کے نزدیک درست نہیں۔
رازقِ مطلق چینٹی اور کیڑے مکوڑے کو روزی دیتا ہے، تعجب ہے جو اشرف المخلوقات کو روزی نہ دے لیکن انسان کو صبر درکار ہے۔
اس زمانہ میں جو ایک مرید کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ ایک موضع کا حاصل اس کے ہاتھ آ گیا اور میرے نزدیک یہ ہے کہ شخص کو مرید کرنا ایک موضع کی ذمہ داری اور ایک موضع کا مواخدہ اپنے سر دھرتا ہے۔
ہر فن کے لیے ایک استاد درکار ہے اور جو کام بلا تعلیم استاد کیا جاتا ہے وہ معتبر نہیں۔
جو شخص اپنی نا واقفیت سے مشائخ کے قول کو رد کرے اس سے لڑنا نہ چاہیے وہ بے چارہ معذور ہے اور اپنے باطن سے بیگانہ۔
کسی کی بابت برا کہنا اگرچہ کہنے والا پر تاثیر ہی کیوں نہ ہو شانِ فقیری کے خلاف ہے۔
کوئی شخص اگر آسمان میں اڑے اور ذرہ برابر شریعت کی خلاف ورزی کرے تو وہ قابلِ اعتبار نہیں، اس کے کشف و کرامت پر فریفتہ نہیں ہونا چاہیے۔
لوگ اس پر فخر کرتے ہیں کہ ہم شیخ زادے اور ہم پیر زادے ہیں اور یہی باتیں سد راہ ہو جاتی ہیں۔
وجد میں آدمی بے ہوش نہیں ہوتا بلکہ بے خود ہو جاتا ہے، اگر بیہوش ہوگیا تو لطف جاتا رہا۔
جو کوئی نمازِ جماعت کا امام ہوا اس کو قرأت کے مطابق انتہائی صحبت کا خیال رکھنا چاہیے ورنہ بہت خرابی ہے۔
خدا اپنے بندہ میں اس صفت کے ساتھ موجود ہے جس صفت کے ساتھ بندہ نے اس کو پہچانا ہے۔
ڈھولک کی تھاپ سماع کے وقت دل پر پڑتی ہے اور وہ ایک دھوکتی ہے جو دل کی آگ کو بھڑکا دیتی ہے۔
بعض لوگ یہ تک نہیں جانتے کہ قضائے حاجت کے بعد کتنے ڈھیلے استعمال کرنا چاہیے اور کیوں کر استعمال کرنا چاہیے، یہ بے باک لوگوں پر طعنہ زنی کرتے ہیں ان پر افسوس ہے۔
مرید اگر ظاہری شکل و صورت بھی اپنے پیر کی طرح نہ کر سکا تو اس سے آگے اور کیا ہوسکتا ہے۔
اگر کوئی کچھ پیش کرے تو چاہیے کہ اسے خدا کی طرف سے سمجھ کر لے لے واپس نہ کرے۔
جو بیگانہ ہو اس سے طریقت کی راہ کی باتیں نہ کریں، جب تک کہ وہ ان سے مانوس اور ان کی طرف رجوع نہ ہو۔
تعلیم بہر صورت مفید و فائدہ مند ہے کیوں کہ ممکن ہے کسی وقت ہمت یاری کرے اس وقت تعلیم کی ضرورت نہ رہے گی اور وہ اپنا کام نکال لے گا۔
مردانِ خدا تین طرح کے ہوتے ہیں۔
ایک وہ کہ خدا کے نزدیک وہ دل ہیں اور وہ اپنی ولایت سے بے خبر ہیں۔
دوسرے وہ کہ خدا کے نزدیک وہ دلی میں اور وہ خود بھی اسے جانتے ہیں لیکن لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوتی۔
تیسرے وہ کہ خود بھی اسے جانتے ہیں اور لوگ بھی اسے جانتے ہیں اور خدا کے یہاں بھی وہ دل ہیں۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere