پنڈت شائق وارثی کے اشعار
چشم حق بیں ہو چکی ہے شاد کام آرزو
توڑتا ہے اب طلسم جلوۂ باطل مجھے
جسے کہتے ہیں موت اک بے خودی کی نیند ہے شائقؔ
پریشانی ہے جس کا نام وہ ہے زندگی اپنی
کر دیا ہے بے خودی نے آج اس قابل مجھے
اپنے پہلو میں لیے لیتی ہے خود منزل مجھے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere