قمر جلالوی کے اشعار
ابھی کیا ہے قمرؔ ان کی ذرا نظریں تو پھرنے دو
زمیں نامہرباں ہوگی فلک نامہرباں ہوگا
کیا ان آہوں سے شب غم مختصر ہو جائے گی
یہ سہ سحر ہونے کی باتیں ہیں سحر ہو جائے گی
یہ بہت اچھا ہوا آئینگے وہ پہلے پہر
چاندنی بھی ختم جب تک اےقمرؔ ہو جائیگی
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere