Font by Mehr Nastaliq Web
Saadi Shirazi's Photo'

سعدی شیرازی

1210 - 1291 | شیراز, ایران

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

سعدی شیرازی کے صوفی اقوال

159
Favorite

باعتبار

جو نصیحت نہیں سنتا اسے ملامت سننے کا شوق ہے۔

ظالم حکمران کو وہ ہی نصیحت کرسکتا ہے جسے نہ بیم سر ہو نہ امیدِ زر۔

جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا شوق رکھتا ہے۔

اگر تو کسی ایک شخص کی بھی تکلیف دور کرے تو یہ زیادہ بہتر کام ہے، بہ نسبت اس کے کہ تو حج کو جائے اور راستہ کے ہر پڑاؤ پر ایک ہزار رکوع نماز پڑھتا جائے۔

اس کی ہمت پر قربان جو نیک کام اخلاص سے کرتا ہے۔

مذہب صرف لوگوں کی خدمت میں ہے، تسبیح اور مصلیٰ میں نہیں۔

کمزوروں پر رحم نہ کھانے والا طاقتوروں سے مارکھاتا ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک ملک اور چاہتا ہے۔

وہ شخص سچ مچ عقلمند ہے جو غصہ کی حالت میں بھی بری بات منہ سے نہیں نکالتا۔

جو زیادہ پیسے والا ہے وہی زیادہ محتاج ہے۔

جتنے دن زندہ ہو، اس سے پہلے کہ لوگ تمہیں مردہ کہیں نیکی کر جاؤ۔

دوڑنا ضروری نہیں بر وقت چل پڑنا چاہیے۔

جو تیرے سامنے اوروں کی برائی کرتا ہے وہ اوروں کے سامنے تیری برائی کرے گا۔

یہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی دلیل مقابل کے آگے نہ چل سکے تو لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

ظالم سے بڑھ کر بد قسمت آدمی کوئی دوسرا نہیں ہوسکتا کیوں کہ مصیبت کے وقت اس کا کوئی مددگار نہیں ہوتا۔

بد سرشتوں کے ساتھ حسنِ سلوک ایسا ہے جیسے نیکوں کے ساتھ بدی کرنا۔

خدمت سے خوش قسمتی ملتی ہے۔

میں خدا سے ڈرتا ہوں اور اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا۔

جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا عادی ہوتا ہے۔

صبر زندگی کے مقصد کا راستہ کھولتا ہے کیوں کہ سوائے صبر کے اس دروازے کی اور کوئی چابی نہیں ہے۔

جب شراب انسان کے اندر داخل ہوتی ہے تو عقل کو باہر نکال دیتی ہے۔

اگر کسی کو تھوڑا کھانے کی عادت ہے تو وہ سختی کے دن آسانی سے گذار سکتا ہے اور اگر فراغی کے دنوں میں تن پرور ہو تو تنگی میں سختی سے مرتا ہے۔

اگر چڑیا متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ہیں۔

جو سوچ سجھ کر بات نہیں کرتا، وہ جواب پاکر رنجیدہ ہوتا ہے۔

بد سرشتوں کے ساتھ حسنِ سلوک ایسا ہے جیسے نیکوں کے ساتھ بدی کرنا۔

حریص آدمی ساری دنیا لے کر بھی بھوکا ہے اور قانع ایک روٹی سے بھی پیٹ بھر سکتا ہے۔

عقلمند آدمی اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی۔

اے حقیر! پیٹ ایک ہی روٹی سے مطمئن ہوجا تاکہ غلامی سے تجھے کمر کو نہ جھکانا پڑے۔

اگر انسان رنج و فکر سے بلند ہو جائے تو آسمان کی بلندی بھی اس کے قدموں کے نیچے آ جائے۔

دوسروں کا مزاج چاہے تمہیں پسند نہ ہو لیکن تمہیں اپنی نیک مزاجی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

غصہ کی آگ پہلے غصہ کرنے والے ہی پر پڑتی ہے، بعد میں دشمن پر۔

جتنے دن زندہ ہو، اسے غنیمت سمجھو۔

سارے انسان ایک جسم کے مانند ہیں، ایک عضو کو دکھ ہوتا ہے تو سارے اعضا پر اس کا اثر پڑتا ہے۔

شیر بھوکا مر جانا پسند کرتا ہے کسی کا جھوٹا کھانا کبھی نہیں کھاتا۔

دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اس وقت جب وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔

فطری کمینگی برسوں میں بھی معلوم نہیں ہوتی۔

بخیل آدمی کی دولت اس وقت زمین سے نکلتی ہے جب وہ زمین کے نیچے چلا جاتا ہے۔

خدمت سے خوش قسمتی حاصل ہوتی ہے۔

عقلمند عطار کی ڈبیہ کی طرح خاموش مگر با ہنر ہوتا ہے مگر بے وقوف فوجی ڈھول کی طرح ہوتا ہے کہ بہت اونچی آواز والا مگر اندر سے خالی ہوتا ہے۔

جاہل کے لیے خاموشی سے بہتر کوئی چیز نہیں اور اگر اس میں یہ توفیق پیدا ہو جائے تو وہ جاہل نہیں رہے گا۔

Deep in the sea, there are riches beyond your imagination. But if you seek safety, that is at the shore.

Deep in the sea, there are riches beyond your imagination. But if you seek safety, that is at the shore.

Green wood can be bent. But once it becomes dry, it can only be straightened by fire.

Green wood can be bent. But once it becomes dry, it can only be straightened by fire.

No one throws stones at the barren tree.

No one throws stones at the barren tree.

Ten dervishes can sleep beneath one blanket. Two kings cannot rein in one kingdom.

Ten dervishes can sleep beneath one blanket. Two kings cannot rein in one kingdom.

The Alchemist dies in frustration and sorrow. And the fool finds a treasure in a ruin.

The Alchemist dies in frustration and sorrow. And the fool finds a treasure in a ruin.

If a gem falls into the mud, it will still remain valuable. And if the dust descends to heaven, it will still be of no value.

If a gem falls into the mud, it will still remain valuable. And if the dust descends to heaven, it will still be of no value.

A raindrop, dripping from a cloud. Ashamed when it saw the sea. ‘Who am I where is a sea’, it said. As it saw itself, from the eyes of humility A shell embraced him and makes him a pearl.

A raindrop, dripping from a cloud. Ashamed when it saw the sea. ‘Who am I where is a sea’, it said. As it saw itself, from the eyes of humility A shell embraced him and makes him a pearl.

One who gives advice to heedlessness is himself in need of advice.

One who gives advice to heedlessness is himself in need of advice.

Make no friendship with an elephant keeper. If you have no room to entertain an elephant.

Make no friendship with an elephant keeper. If you have no room to entertain an elephant.

A thief entered the house of a Sufi and found nothing there to steal. As he was leaving, the dervish, the dervish, sensing his disappointment, threw him the blanket on which he had been lying.

A thief entered the house of a Sufi and found nothing there to steal. As he was leaving, the dervish, the dervish, sensing his disappointment, threw him the blanket on which he had been lying.

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے