Font by Mehr Nastaliq Web
Saadi Shirazi's Photo'

سعدی شیرازی

1210 - 1291

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

سعدی شیرازی کے صوفی اقوال

172
Favorite

باعتبار

سمندر کی گہرائیوں میں بے شمار خزانے چھپے ہیں مگر اگر تمہیں حفاظت چاہیے تو وہ کنارے پر ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک ملک اور چاہتا ہے۔

جو شخص غرور اور دکھاوے کے لیے اپنی گردن اونچی کرتا ہے، وہ خود منہ کے بل گر جاتا ہے۔

دوڑنا ضروری نہیں بر وقت چل پڑنا چاہیے۔

میں خدا سے ڈرتا ہوں اور اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا۔

جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا عادی ہوتا ہے۔

آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کامیابی کی علامت ہے۔

یہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی دلیل مقابل کے آگے نہ چل سکے تو لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

بدوں کے ساتھ نیکی کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا نیکیوں کے ساتھ بدی کرنا۔

کوئی شخص روزی اپنی لیاقت اور طاقت سے نہیں حاصل کرتا، خدا سب کا رازق ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک اور ملک چاہتا ہے۔

استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔

جس کو ایک مدت کے لیے دوست بنا مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کر دیں، اس سے لا تعلقی بھی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے یک دم نہیں۔

جب شراب انسان کے اندر داخل ہوتی ہے تو عقل کو باہر نکال دیتی ہے۔

جس شخص پر پیسہ کا لالچ چھا گیا، اسے زندگی کے کھلیان کو ہوا میں اڑا دیا۔

اے عقل مند ہاتھ دھو لے جو دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔

انسانوں پر ظلم کرنے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں، کیوں کہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔

دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی۔

اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جائے تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔

جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔

جس مظلوم کو بادشاہ سے انصاف نہ مل سکے اسے خدا انصاف دلاتا ہے۔

نصیحت اگر چہ نا خوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتا ہے۔

اگر کسی کو تھوڑا کھانے کی عادت ہے تو وہ سختی کے دن آسانی سے گذار سکتا ہے اور اگر فراغی کے دنوں میں تن پرور ہو تو تنگی میں سختی سے مرتا ہے۔

جو کوئی اپنی کمائی سے روٹی کھاتا ہے اسے حاتم طائی کا احسان اٹھانا نہیں پڑتا۔

شر پھیلانے والا خود بھی شر میں پھنس جاتا ہے۔

اگر تجھے میری عادت ناگوار ہے تو تو اپنی اچھی عادت ہاتھ سے نہ جانے دے۔

اگر چڑیا متحد ہو جائیں تو شیر کی کھال کھینچ سکتی ہیں۔

زبان کٹا ہوا اور گوشہ تنہائی میں بہرا گونگا بن کر بیٹھا ہوا انسان اس سے بہتر ہے جس کی زبان قابو میں نہ ہو۔

یہ ضروری نہیں کہ جو خوبصورت ہو نیک سیرت بھی ہوگا کیوں کہ کام کی چیز اندر ہوتی ہے باہر نہیں۔

برائی کا بدلہ برائی سے دینا آسان ہے اگر نوجوان مرد ہے تو برائی کا بدلہ احسان اور نیکی سے دے۔

جو سوچ سجھ کر بات نہیں کرتا، وہ جواب پاکر رنجیدہ ہوتا ہے۔

نیک انجام فقیر بد انجام بادشاہ سے بہتر ہے۔

لالچی کے لیے اپنا دروازہ نہیں کھولنا چاہیے، اگر کھل گیا تو پھر بند نہ ہوگا۔

عقل مند اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی۔

اے حقیر! پیٹ ایک ہی روٹی سے مطمئن ہوجا تاکہ غلامی سے تجھے کمر کو نہ جھکانا پڑے۔

جو آدمی سوچ کر بات نہیں کرتا وہ اس کے جواب پر بگڑتا ہے۔

اگر انسان رنج و فکر سے بلند ہو جائے تو آسمان کی بلندی بھی اس کے قدموں کے نیچے آ جائے۔

حریص آدمی ساری دنیا لے کر بھی بھوکا ہے اور قانع ایک روٹی سے بھی پیٹ بھر سکتا ہے۔

عقلمند آدمی اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی۔

منصف اور عادل کو خدا اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا۔

بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتا ہے۔

مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے، ہمت سے اس کامقابلہ کرنا چاہیے، ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔

شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکا مارنا عقلمندوں کا کام نہیں۔

کسی پر نہ اتنی سختی کر کہ وہ تجھ سے بیزار ہو جائیں اور نہ اتنی نرمی کر کہ وہ تم پر سوار ہو جائیں، اعتدال پسندی اختیار کرو۔

نیکی کرنے والا نیکی کا صلہ ضرور پاتا ہے۔

بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو بھی خدا کے سامنے جھکے بغیر چارہ نہیں۔

غصہ کی آگ پہلے غصہ کرنے والے ہی پر پڑتی ہے، بعد میں دشمن پر۔

جو شخص دشمن سے صلح کرتا ہے اسے دوستوں کو آزار پہنچانے کا خیال ہے۔

بروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ہی ہے جیسے نیکوں کے ساتھ برائی کرنا۔

دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اس وقت تک جب تک وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے