Font by Mehr Nastaliq Web
Saadi Shirazi's Photo'

سعدی شیرازی

1210 - 1291

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

ایران کے ایک بڑے معلم، آپ كى دو كتابيں گلستاں اور بوستاں بہت مشہور ہيں، پہلى كتاب نثر ميں ہے جبكہ دوسرى كتاب نظم ميں ہے-

سعدی شیرازی کے صوفی اقوال

174
Favorite

باعتبار

سمندر کی گہرائیوں میں بے شمار خزانے چھپے ہیں مگر اگر تمہیں حفاظت چاہیے تو وہ کنارے پر ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک ملک اور چاہتا ہے۔

جو شخص غرور اور دکھاوے کے لیے اپنی گردن اونچی کرتا ہے، وہ خود منہ کے بل گر جاتا ہے۔

دوڑنا ضروری نہیں بر وقت چل پڑنا چاہیے۔

میں خدا سے ڈرتا ہوں اور اس شخص سے ڈرتا ہوں جو خدا سے نہیں ڈرتا۔

جو نصیحت نہیں سنتا وہ ملامت سننے کا عادی ہوتا ہے۔

آہستہ آہستہ مگر مسلسل چلنا کامیابی کی علامت ہے۔

یہ جاہلوں کا طریقہ ہے کہ جب کوئی دلیل مقابل کے آگے نہ چل سکے تو لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔

بدوں کے ساتھ نیکی کرنا اتنا ہی برا ہے جتنا نیکیوں کے ساتھ بدی کرنا۔

کوئی شخص روزی اپنی لیاقت اور طاقت سے نہیں حاصل کرتا، خدا سب کا رازق ہے۔

اگر کسی فقیر کے پاس ایک روٹی ہوتی ہے تو وہ آدھی روٹی خود کھاتا ہے اور آدھی کسی غریب کو دے دیتا ہے لیکن اگر کسی بادشاہ کے پاس ایک ملک ہوتا ہے تو وہ ایک اور ملک چاہتا ہے۔

استاد کی سختی باپ کے پیار سے بہتر ہے۔

جس کو ایک مدت کے لیے دوست بنا مناسب نہیں کہ اس کو ایک لمحہ میں رنجیدہ کر دیں، اس سے لا تعلقی بھی آہستہ آہستہ ہونی چاہیے یک دم نہیں۔

جو شخص طاقت کے دنوں میں نیکی نہیں کرتا ضعف کے دنوں میں تکلیف اٹھاتا ہے۔

بے نماز کو قرض مت دو خواہ فاقہ سے اس کا منہ کھلا ہوا ہو اس لیے کہ جو خدا کا قرض ادا نہیں کرتا اسے تیرے قرض کی فکر بھی نہ ہوگی۔

جتنے دن زندہ ہو، اسے غنیمت سمجھو۔

حقیقی بڑا تو وہ ہے جو اپنے ہر چھوٹے کو پہچانتا ہو اور اس کی ضروریات کا خیال رکھتا ہو۔

کمزور دشمن اطاعت قبول کرے اور دوست بن جائے اس کا مقصد اس کے علاوہ اور کچھ نہیں ہوتا کہ وہ مضبوط دشمن بننا چاہتا ہے۔

آدمی وہ ہے جس کی ذات سے دوسروں کو فائدہ پہنچے ورنہ پتھر ہے۔

جو کمزور پر رحم نہیں کرتا وہ زبردستوں کے ظلم میں پھنستا ہے۔

دوسروں کا مزاج چاہے تمہیں پسند نہ ہو لیکن تمہیں اپنی نیک مزاجی نہیں چھوڑنی چاہیے۔

آخرت میں نیکیوں کے مطابق مرتبے ملتے ہیں، اس لیے نیکی کرو۔

سارے انسان ایک جسم کے مانند ہیں، ایک عضو کو دکھ ہوتا ہے تو سارے اعضا پر اس کا اثر پڑتا ہے۔

دنیا بے وفا اور انتہائی ناقابل اعتبار ہے اس سے فائدہ وہی شخص اٹھاتا ہے جو اسے مخلوق خدا کی اصلاح اور فلاح میں لگا دیتا ہے۔

حسین چہرہ کو بناؤ سنگھار کرنے کی ضرورت نہیں۔

سب داناؤں کا اس پر اتفاق ہے کہ حق شناس کتا ناشکر گزار انسان سے بہتر ہے۔

امیر وزیر اور بادشاہ کے دروازوں کا چکر بغیر کسی وسیلہ کے نہ کاٹ۔

حریص آدمی ساری دنیا لے کر بھی بھوکا ہے اور قانع ایک روٹی سے بھی پیٹ بھر سکتا ہے۔

عقلمند آدمی اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی۔

منصف اور عادل کو خدا اپنے عرش کے نیچے سایہ دے گا۔

بہت سے کام صبر سے نکلتے ہیں اور جلد باز منہ کے بل گرتا ہے۔

مصیبت میں حوصلہ نہیں ہارنا چاہیے، ہمت سے اس کامقابلہ کرنا چاہیے، ہمت طاقت سے زیادہ کام کرتی ہے۔

شیر سے پنجہ آزمائی کرنا اور تلوار پر مکا مارنا عقلمندوں کا کام نہیں۔

کسی پر نہ اتنی سختی کر کہ وہ تجھ سے بیزار ہو جائیں اور نہ اتنی نرمی کر کہ وہ تم پر سوار ہو جائیں، اعتدال پسندی اختیار کرو۔

نیکی کرنے والا نیکی کا صلہ ضرور پاتا ہے۔

بڑے بڑے متکبروں اور سرکشوں کو بھی خدا کے سامنے جھکے بغیر چارہ نہیں۔

غصہ کی آگ پہلے غصہ کرنے والے ہی پر پڑتی ہے، بعد میں دشمن پر۔

جو شخص دشمن سے صلح کرتا ہے اسے دوستوں کو آزار پہنچانے کا خیال ہے۔

بروں کے ساتھ نیکی کرنا ایسا ہی ہے جیسے نیکوں کے ساتھ برائی کرنا۔

دشمن سے ہمیشہ بچو اور دوست سے اس وقت تک جب تک وہ تمہاری تعریف کرنے لگے۔

جب شراب انسان کے اندر داخل ہوتی ہے تو عقل کو باہر نکال دیتی ہے۔

جس شخص پر پیسہ کا لالچ چھا گیا، اسے زندگی کے کھلیان کو ہوا میں اڑا دیا۔

اے عقل مند ہاتھ دھو لے جو دشمنوں کے ساتھ اٹھتا بیٹھتا ہے۔

انسانوں پر ظلم کرنے والے سے زیادہ بد نصیب کوئی نہیں، کیوں کہ جب اس پر مصیبت پڑتی ہے تو اس کا کوئی دوست نہیں ہوتا۔

دولت کو صدقہ جاریہ میں لگاؤ آخرت میں کام آئے گی۔

اگر چڑیوں میں اتحاد ہو جائے تو وہ شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔

جس کے سر میں غرور ہو اس کے بارے میں ہرگز یہ خیال نہ کرو کہ وہ سچی بات سن لے گا۔

جس مظلوم کو بادشاہ سے انصاف نہ مل سکے اسے خدا انصاف دلاتا ہے۔

نصیحت اگر چہ نا خوشگوار ہوتی ہے لیکن اس کا انجام خوشگوار ہوتا ہے۔

اگر کسی کو تھوڑا کھانے کی عادت ہے تو وہ سختی کے دن آسانی سے گذار سکتا ہے اور اگر فراغی کے دنوں میں تن پرور ہو تو تنگی میں سختی سے مرتا ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے