Font by Mehr Nastaliq Web
noImage

شیو پرشاد وہبی

- 1880 | لکھنؤ, بھارت

کائستھ برادری کے لکھنوی شاعر، رائے سوبھا رام وصفی کے فرزند اور آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی قلق کے شاگرد تھے، ان کا دیوان ’’مرقعِ ارژنگ‘‘ 1880ء میں شائع ہوا اور وہ ایک عرصے تک ’’اودھ اخبار‘‘ کے منیجر رہے۔

کائستھ برادری کے لکھنوی شاعر، رائے سوبھا رام وصفی کے فرزند اور آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی قلق کے شاگرد تھے، ان کا دیوان ’’مرقعِ ارژنگ‘‘ 1880ء میں شائع ہوا اور وہ ایک عرصے تک ’’اودھ اخبار‘‘ کے منیجر رہے۔

شیو پرشاد وہبی کا تعارف

تخلص : 'وہبی'

اصلی نام : شیو پرشاد

پیدائش :لکھنؤ, اتر پردیش

منشی شیو پرشاد کائستھ برادری سے تعلق رکھتے تھے اور رائے سوبھا رام وصفی کے فرزند تھے، لکھنؤ کے باشندے اور آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی قلق کے تلامذہ میں شامل تھے، شعر و سخن سے ان کی وابستگی کا اندازہ ان کے دیوان مرقعِ ارژنگ سے ہوتا ہے جو 1880ء میں شائع ہوا، ایک عرصے تک اودھ اخبار کے منیجر کے منصب پر بھی فائز رہے، 1899ء تک ان کے حیات ہونے کا سراغ ملتا ہے۔

موضوعات

Recitation

بولیے