کائستھ برادری کے لکھنوی شاعر، رائے سوبھا رام وصفی کے فرزند اور آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی قلق کے شاگرد تھے، ان کا دیوان ’’مرقعِ ارژنگ‘‘ 1880ء میں شائع ہوا اور وہ ایک عرصے تک ’’اودھ اخبار‘‘ کے منیجر رہے۔
کائستھ برادری کے لکھنوی شاعر، رائے سوبھا رام وصفی کے فرزند اور آفتاب الدولہ خواجہ ارشد علی قلق کے شاگرد تھے، ان کا دیوان ’’مرقعِ ارژنگ‘‘ 1880ء میں شائع ہوا اور وہ ایک عرصے تک ’’اودھ اخبار‘‘ کے منیجر رہے۔
You have exhausted 5 free content pages per year. Register and enjoy UNLIMITED access to the whole universe of Urdu Poetry, Rare Books, Language Learning, Sufi Mysticism, and more.