Font by Mehr Nastaliq Web

صوفی اورسنتوں کی فہرست

سیکڑوں شاعروں کا منتخب کلام

ایک ممتاز مدرس، ہمہ جہت شاعر اور اظہر قادری کے شاگرد تھے۔

تحیر شاہ وارثی کے صاحبزادے

پندرہویں صدی کے ایک صوفی شاعر اور سنت جنہیں بھگت کبیر کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کبیر اپنے دوہے کی وجہ سے کافی مشہور ہیں، انہیں بھگتی تحریک کا سب سے بڑا شاعر ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

اردو کے ممتاز شاعر تھے، وکالت کے پیشے سے وابستہ رہے اور نوح ناروی سمیت کئی اہلِ فن سے اصلاحِ سخن لی، ان کا شعری مجموعہ "کیفِ سرمدی" جبکہ "انوارِ حقیقت" اور "انوارِ تصوف" ان کی اہم تصانیف ہیں۔

اردو کے ممتاز شاعر اور صحافی تھے، انہوں نے "شرف الاخبار" جاری کیا جبکہ ان کی معروف تصنیف قومی مثنوی "دلگداز" ہے جس نے انہیں اردو ادب میں نمایاں مقام عطا کیا۔

مشہور عالم دین، فاضل متین اور اقبال کے معاصر

اردو کے ممتاز شاعر تھے، شعر و سخن کا ذوق انہیں اپنے بڑے بھائی حکیم زبیر احمد کی صحبت سے ملا، انہوں نے نعت، منقبت، غزل، رباعی اور قطعہ میں طبع آزمائی کی۔

ٹونک کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، انہوں نے اسد لکھنوی اور بعد ازاں امیر مینائی سے اصلاح لی، غزل، قصیدہ اور نعت میں طبع آزمائی کی، تاہم نعت گوئی میں انہیں غیر معمولی شہرت حاصل ہوئی۔ ان کا نعتیہ مجموعہ ’’وسیلۂ شفاعت‘‘ 1906ء میں شائع ہوا۔

ممتاز محقق، دیوان غالب زمانی لحاظ سے مرتب کرنے کے لیے معروف

عظیم آباد کے مشہور رئیس اور وحید الہ آبادی کے شاگرد رشید

فارسی کے نامور صوفی شاعر تھے، اصل وطن خجند اور مستقل قیام تبریز میں رہا، امیر حسن علا سجزی کے تتبع میں شعر کہتے تھے اور حافظ شیرازی سے مراسلت بھی رہی۔

حاجی وارث علی شاہ کے فقیر حافظ پیاری کے داماد تھے

آٹھویں صدی ہجری کے عارف اور فارسی شاعر

بدایوں کے شاعر، طبیب اور نعت گو تھے، انہوں نے نواب زین العابدین خاں عارف دہلوی سے اصلاح لی اور اپنی نعتیہ شاعری کے لیے شہرت حاصل کی۔

صوفی منیری کے چھوٹے صاحبزادے

’’آپ کو پاتا نہیں جب آپ کو پاتا ہوں میں‘‘ لکھنے والے شاعر

اسلامیہ انٹر کالج، شاہ جہان آباد کے مدرس اور شاغل وجدانی کے شاگرد

اردو کے شاعر اور ادبی کارکن تھے، اردو و فارسی کے علمی ماحول میں تربیت پائی اور مولانا شیخ تصدق حسین سے فیض حاصل کیا، انہوں نے آزادی کی تحریک میں حصہ لیا اور ادبی انجمنوں کے قیام کے ذریعے اردو شاعری کے فروغ میں کردار ادا کیا۔

ممتاز عالمِ دین، مصلح، صوفی اور تحریکِ طیونیہ کے بانی تھے، انہوں نے بنگال و آسام میں دینی اصلاح، تعلیم اور تبلیغ کے لیے نمایاں خدمات انجام دیں۔

اردو کے ممتاز نعت گو شاعر تھے، ان کے کلام میں عشقِ رسول، سوز و گداز اور سادگیِ بیان نمایاں ہے۔

’’نغمۂ محبت‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے مشہور ہیں جو فارسی رسم الخط میں ہندی اشعار پر مشتمل کتاب ہے۔

دکنی ’’حالاتِ ولادت آنحضرت صلعم‘‘ کے مصنف کی حیثیت سے مشہور ہیں جو دکنی زبان کا ایک اہم مذہبی رسالہ ہے۔

شاہ زید ابوالحسن نقشبندی دہلوی کے مرید اور ’’ساز و نغمہ‘‘ اور ’’چراغ حرم‘‘ کے شاعر

حضرت علی سجاد بن شاہ نعمت اللہ پھلواروی کے فرزند، صاحبِ علم صوفی شاعر اور اپنی غزل "اگر اس بارگاہِ پاک میں تیرا گزر ہووے" کے لیے مشہور۔

بولیے