کامل شطاری کے اشعار
محسوس یہ ہوا مجھے احساس غم کے ساتھ
میں اس کے دم کے ساتھ ہوں، وہ میرے دم کے ساتھ
ذرا ٹھہرو مرے آنسو تو پورے خشک ہونے دو
ابھی آنکھوں میں تھوڑی سی نمی معلوم ہوتی ہے
بطفیل دامن مرتضی میں بتاؤں کیا مجھے کیا ملا
کہ علی ملے تو نبی ملے جو نبی ملے تو خدا ملا
کیا پوچھتے ہو مجھ سے مرے دل کی آرزو
اب میری ہر خوشی ہے تمہاری خوشی کے ساتھ
ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے
ساحل کی خوشی میں موجوں کا طوفان اٹھانا بھول گئے
جہاں قدرت کسی سے پھیر لیتی ہے نظر اپنی
وہیں انسان کی بے مائیگی معلوم ہوتی ہے
اسے چاند سورج سے تشبیہ کیا دوں
جو ہے رشک شمس و قمر اللہ اللہ
ہر چند فقط مختار نہیں ہر چند فقط مجبور نہیں
اک آہ تو بھر لوں اپنی خوشی اتنا بھی مجھے مقدور نہیں
تم مرے رونے پے ہنستے ہو خدا ہنستا رکھے
یہ بھی کیا کم ہے کہ رو کر تو ہنسا سکتا ہوں، میں
بے ارادہ کچھ ٹپک پڑتے ہیں آنسو بھی وہاں
زندگی کی جس روش پر مسکرا سکتا ہوں میں
تمنا دو دلوں کی ایک ہی معلوم ہوتی ہے
اب ان کی ہر خوشی اپنی خوشی معلوم ہوتی ہے
رکھا نہ اب کہیں کا دل بے قرار نے
برباد کر دیا غم بے اختیار نے
آخر غم حیات کے ماتم سے فائدہ
غم زندگی کے ساتھ خوشی زندگی کے ساتھ
محبت کے آنسو ہیں پی جائیے
کہیں کوئی طوفان آ جائے نا
ترے ہاتھ میری فنا بقا ترے ہاتھ میری سزا جزا
مجھے ناز ہے کہ ترے سوا کوئی اور میرا خدا نہیں
ہوا عشق سے یہ ہمیں استفادہ مزے میں وہی ہے جو ہے بے ارادہ
انہیں کی خوشی میں مزیداریاں ہیں نہیں تو بڑا دکھ اٹھانا پڑےگا
بصد نا مرادی مراد اپنی کاملؔ
کسی کا غم معتبر اللہ اللہ
ترا وجود ہے جان بہار گلشن
تجھی سے نکہت ہر گل ہے یا غریب نواز
جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا
جہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں ماتم نہیں ہوتا
زخم دل ہو گئے پھر انکی عنایت سے ہرے
میرے گلشن میں پھر اک تازہ بہار آئی ہے
میری پہلی پرورش تقدیس کی آغوش میں
قدسیوں کے سر بھی کاملؔ میرے آگے خم رہے
آنسو سنبھل کے پونچھئے بیمار عشق ہوں
دل بھی لگا ہوا ہے میری چشم نم کے ساتھ
مرا ایک سجدہ تو ہو چین کا
خدا ہی جو ٹھہرا خود آ جائے نا
وہ فصل گل میں دل کو جلا کر چلے گئے
اس مرتبہ تو آگ لگا دی بہار نے
اک بعد خیالی سے ہٹ کر غم فرقت کیا
مفلوج نہ ہونے دو احساس معیت کو
کبھی ورطۂ غم میں دل کو ڈبو کر کبھی خون پی کر کبھی خون رو کر
بہت کچھ ابھی اپنی روداد غم کو اسی طرح رنگیں بنانا پڑےگا
اے چاراگر خوش فہم ذرا کچھ عقل کی لے کچھ ہوش کی لے
بیمار محبت بھی تجھ سے نادان کہیں اچھا ہوگا
اب خواب میں بھی دید کو آنکھیں ترس گئیں
بے خواب کر دیا غم شب زندادار نے
جو دل ہو جلوہ گاہ ناز اس میں غم نہیں ہوتا
جہاں سرکار ہوتے ہیں وہاں ماتم نہیں ہوتا
خدا حافظ اب دل کی خود داریوں کا وہ آتے نہیں ان کو لانا پڑےگا
محبت سے مجبور ہوں، کیا بتاؤں انہیں کیسے کیسے منانا پڑےگا
نشیلی نگاہوں کے مارے ہوؤں کو بس اک بے خودی میں گزارے ہوؤں کو
تیری مست آنکھوں کے قربان ساقی انہیں ساغروں سے پلانا پڑےگا
پی بھی لوں آنسو تو آخر رنگ رخ کو کیا کروں
سوز غم کو کیا کسی عنواں چھپا سکتا ہوں، میں
عزم و استقلال ہے شرط مقدم عشق میں
کوئی جادہ کیوں نہ ہو انسان اس پر جم رہے
یا تو نے نظر خیرہ کر دی اے برق تجلی یا ہم ہی
دیدار میں اپنی آنکھوں کا احسان اٹھانا بھول گئے
اس قادر مطلق کے بندے ہی جو ہم ٹھہرے
ہنستے ہوئے سہنا ہے ہر جبر مشیت کو
جب چاہنے والے ختم ہوئے اس وقت انہیں احساس ہوا
اب یاد میں ان کی روتے ہیں ہنس ہنس کے رلانا بھول گئے
تو اسی کی آنکھ کا نور ہے تو اسی کے دل کا سرور ہے
کہ جسے بلند نظر ملی کہ جسے شعور ولا ملا
جو غم میں مسرت کی گھلنے کو ہوئے پیدا
بد بخت وہ کیا جانیں خود غم کی مسرت کو
ترا وجود ہے جان بہار گلشن چشت
تجھی سے نکہت ہر گل ہے یا غریب نواز
محبت کی پہلی نظر اللہ اللہ
وہ طوفان جذب و اثر اللہ اللہ
تمہارا درد ہے سرمایۂ حیات مرا
خدا کرے کہ یہ ہو لا دوا غریب نواز
محسوس یہ ہوا مجھے احساس غم کے ساتھ
میں اس کے دم کے ساتھ ہوں، وہ میرے دم کے ساتھ
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere