کیفی حیدرآبادی کے اشعار
مجھ کو تاخیر کا شکوہ نہیں ہاں اور سنو
آئینہ تیرا ہے زلفیں تیری شانا تیرا
تہمت بد نظری آنکھ چرانے کا گلا
بہس کیا چھڑ گئی تھی شرۂ اشارات کی رات
ساز و ساماں ہیں میری یہ بے سر و سامانیاں
باغ جنت سے بھی اچھا ہے یہ ویرانہ مرا
کوچۂ قاتل میں مجھ کو گھیر کر لائی ہے یہ
جیتے جی جنت میں پہنچا دے قضا ایسی تو ہو
ہم میں اور ان میں محبت یا خدا ایسی تو ہو
جو سنے وہ بول اٹھے مہر ووفا ایسی تو ہو
دل چرایا ہے مرا کس نے خدا ہی جانے
نام لیتا ہے کوئی بے ادبانہ تیرا
کوچۂ قاتل میں مجھ کو گھیر کر لائی ہے یہ
جیتے جی جنت میں پہنچا دے قضا ایسی تو ہو
مہکنے کو گل داغ محبت دل میں ہے اپنے
کھٹکنے کو ہے خار حسرت دیدار آنکھوں میں
رند پی پی کے گلے ملتے ہیں کیا ایک سے ایک
عید کا دن ہے کہ اہل خرابات کی رات
اے زہے طالعے بیدار کہ ہم خواب ہے وہ
میں تو اس رات کو سمجھا ہوں، کرامات کی رات
ملاکر آنکھ دل لینا ہے بائیں ہاتھ کا کرتب
سوا اس کے بھرے ہیں بے شمار اسرار آنکھوں میں
دل بے تاب سنبھل خوف ہے رسوائی کا
حال دیکھے نا کوئی مضطربانہ تیرا
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere