Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

کیفی حیدرآبادی

1880 - 1920

کیفی حیدرآبادی کے اشعار

باعتبار

مجھ کو تاخیر کا شکوہ نہیں ہاں اور سنو

آئینہ تیرا ہے زلفیں تیری شانا تیرا

تہمت بد نظری آنکھ چرانے کا گلا

بہس کیا چھڑ گئی تھی شرۂ اشارات کی رات

ساز و ساماں ہیں میری یہ بے سر و سامانیاں

باغ جنت سے بھی اچھا ہے یہ ویرانہ مرا

کوچۂ قاتل میں مجھ کو گھیر کر لائی ہے یہ

جیتے جی جنت میں پہنچا دے قضا ایسی تو ہو

ہم میں اور ان میں محبت یا خدا ایسی تو ہو

جو سنے وہ بول اٹھے مہر ووفا ایسی تو ہو

دل چرایا ہے مرا کس نے خدا ہی جانے

نام لیتا ہے کوئی بے ادبانہ تیرا

کوچۂ قاتل میں مجھ کو گھیر کر لائی ہے یہ

جیتے جی جنت میں پہنچا دے قضا ایسی تو ہو

مہکنے کو گل داغ محبت دل میں ہے اپنے

کھٹکنے کو ہے خار حسرت دیدار آنکھوں میں

رند پی پی کے گلے ملتے ہیں کیا ایک سے ایک

عید کا دن ہے کہ اہل خرابات کی رات

اے زہے طالعے بیدار کہ ہم خواب ہے وہ

میں تو اس رات کو سمجھا ہوں، کرامات کی رات

ملاکر آنکھ دل لینا ہے بائیں ہاتھ کا کرتب

سوا اس کے بھرے ہیں بے شمار اسرار آنکھوں میں

دل بے تاب سنبھل خوف ہے رسوائی کا

حال دیکھے نا کوئی مضطربانہ تیرا

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے