Font by Mehr Nastaliq Web
Abdul Quddoos Gangohi's Photo'

عبدالقدوس گنگوہی

1456 - 1537 | گنگوہ, بھارت

ایک عظیم صوفی بزرگ اور اہلِ اللہ میں سے تھے جنہوں نے تصوف کے اصولوں کو اپنانا اور لوگوں کو روحانی بیداری کی طرف رہنمائی کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنایا، وہ سلسلۂ چشتیہ صابریہ کے ایک اہم بزرگ اور ایک ممتاز رہنما تھے۔

ایک عظیم صوفی بزرگ اور اہلِ اللہ میں سے تھے جنہوں نے تصوف کے اصولوں کو اپنانا اور لوگوں کو روحانی بیداری کی طرف رہنمائی کرنا اپنی زندگی کا مقصد بنایا، وہ سلسلۂ چشتیہ صابریہ کے ایک اہم بزرگ اور ایک ممتاز رہنما تھے۔

عبدالقدوس گنگوہی کے صوفی اقوال

باعتبار

خانہ بشریت سے نکل کر شہرِ احدیت کی طرف ہجرت کرنا چاہیے اور حضرت صمدیت کا مشتاق ہونا چاہیے۔

جب تک انسان دنیا سے مکمل بےرغبت نہ ہو جائے، وہ غیرِ حق سے نجات نہیں پا سکتا اور جب تک ’’غیریت‘‘ کا اخراج نہ ہو، دل کا معبد بُری خیالات اور آلائشوں سے پاک نہیں ہو سکتا اور جو دل تصفیہ سے خالی ہو، وہ نہ نورِ الٰہی کا حامل بن سکتا ہے اور نہ ابدی زندگی کے لائق۔

ہونا یا نہ ہونا درویش کے لیے ایک سا ہے، اس کا دل ہمیشہ خدا کی عدالت میں حاضر رہتا ہے اور اس کی نگاہ اس نور سے سیر رہتی ہے جس کی کوئی حد نہیں۔

ہم پر اس زمانہ میں یہ ادبار ہے کہ ہم دو چار کتابیں پڑھ کر اور اس کی لغت و معنی یاد کر کے تقریر کرتے ہیں اپنے کو عالم سمجھتے اور صاحبِ کمال و حال گردانتے ہیں، یہ سب علم نہیں جہالت ہے۔

درویش خدا کے نور کی پرچھائی ہے، اس کا مرتبہ آسمان اور خدا کے عرش و کرسی سے بھی بلند ہے۔

درویش جلال و جمالِ الٰہی کا مظہر ہے، انسانی عقل اس کو کیسے پا سکتی ہے۔

رات کی عبادت اور بیداری سے خدا کے عاشق اور نیک بندے خدا تک پہنچتے ہیں اور وحدت کی زندگی پا کر اپنا مقصد حاصل کر لیتے ہیں، یہ سب آدھی رات کی عبادت کا ثمر ہے، اؤلیا اور انبیا، دونوں نے رات کی تنہائی میں معراج پائی۔

عارف ہر لمحہ نئی تجلیاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرتا ہے، کیوں کہ حقیقتِ مطلقہ بے کنارہ ہے وہ ایسا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور عارف کا دل ایسا بحرِ بیکراں ہے جس کا کوئی نشان نہیں۔

جب فقر کامل ہو جاتا ہے تو ’’غیراللہ‘‘ کا وجود مٹ جاتا ہے، حتیٰ کہ خود درویش بھی اپنے درمیان باقی نہیں رہتا، اگر چہ وہ انسان کے طور پر دکھائی دیتا ہے مگر حقیقت میں وہ موجود نہیں ہوتا۔

مصیبت اور ابتلا کے پردے میں روحانی دولت کا خزانہ پوشیدہ ہے، سالکینِ راہِ حق کے لیے رنج و آزمائش میں وہ برکت ہوتی ہے جو عطا و نعمت میں بھی نصیب نہیں ہوتی۔

راہِ سلوک میں کتب کا مطالعہ ضروری ہے، اس موضوع پر کتابیں پڑھنا اپنے اوپر لازم کر لو اور انہیں اپنا رہنما بناؤ، کیوں کہ یہ کتابیں چراغ کی مانند ہیں اور چراغ کے بغیر نہ روشنی حاصل ہوتی ہے، نہ بارگاہِ الٰہی میں حاضری ممکن ہے، جو جاہل ہے وہ حجاب میں ہے، سیکھنے اور عمل کرنے میں مشغول رہو، تصوف کے راستے سے متعلق جو بھی کتاب تمہیں نظر آئے اسے خرید لو۔

جب درویش خدا میں محو ہو جاتا ہے تو وہ ہر غیریت سے بیگانہ ہو جاتا ہے، وہ اُس نورِ الٰہی میں غرق ہوتا ہے جو بے حد و حساب ہے اور ازل تا ابد ہر شے کو اپنے دائرے میں لے لیتا ہے، یہی وہ نورِ حق ہے جو لائقِ پرستش ہے اور یہی وہ نور ہے جس نے کائنات کے ہر ذرے کو منور کر رکھا ہے۔

وہ درویش نہیں جو گدھوں اور بھیڑ بکریوں کی طرح کھاتا ہے، درویش تو خدائی رازوں کا راز ہے اور روح سے بھی زیادہ بلند ہے۔

راہِ حق میں سب سے بڑا حجاب نفس ہے، ورنہ خدا تو قریب ہے، یہ بندہ ہی اپنی خودی کے سبب دور، جدا اور غائب ہے، جب یہ نفس مٹ جائے تو حق ظاہر ہو جاتا ہے۔

رنج و مصیبت کے نیچے، روحانی دولت کا ایک خزانہ چھپا ہوا ہے، حق کے چاہنے والوں کے لیے مصیبت میں وہ برکت ہے جو نعمت اور عطا میں بھی نہیں ملتی۔

اس زمانہ میں درویشی کو ذریعۂ معاش بنا رکھا ہے، ہمیں خدا ایسی درویشی اور اس طرح کی دین فروشی سے محفوظ رکھے۔

روحانی راہ میں کتابیں پڑھنا بے حد ضروری ہے، روحانی کتابوں کا مطالعہ اپنے اوپر لازم کر لو اور انہیں اپنا رہنما بنا لو کیوں کہ وہ چراغ کی مانند ہیں، چراغ کے بغیر روشنی نہیں ہوتی اور روشنی کے بغیر بارگاہِ الٰہی میں حاضری ممکن نہیں، اس راہ پر جو شخص جاہل دکھائی دے، ہوسکتا ہے وہ پردے میں ہو، ہوسکتا ہے وہ علم و عمل میں مشغول ہو، تصوف کی راہ میں جو بھی کتاب تمہیں نظر آئے اسے ضرور پڑھو۔

نماز کے دوران بندہ اپنے رب سے ہم کلام ہوتا ہے، اس کا دل اس قدر حق میں محو ہو جاتا ہے کہ وہ عالمِ ظاہری کے پردے کو چیرتا ہوا بارگاہِ قدس تک پہنچ جاتا ہے اور اُس میں فنا ہو کر نیست ہو جاتا ہے بلکہ کچھ باقی نہیں رہتا، بس وہی باقی رہتا ہے۔

خدا کے دوست اگر چہ دنیاوی مال و دولت سے خالی ہوں اور پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوں پھر بھی وہ خدا کے عاشق ہیں اور دونوں جہانوں کے بادشاہ ہیں۔

درویش وہ ہے جو حقیقت کے سمندر میں غوطہ زن ہو چکا ہے اور وہ ہر تر و خشک سے آزاد ہے۔

خدا کے دوست اگرچہ دنیاوی اعتبار سے کچھ بھی نہ رکھتے ہوں اور پیوند زدہ کپڑوں میں ملبوس ہوں پھر بھی وہ حق سے وابستہ ہوتے ہیں اور دنیا و آخرت، دونوں کے بادشاہ ہوتے ہیں۔

دل جتنے درجے میں پاک ہوتا ہے، اسی قدر روح سے فیض پاتا ہے، جب روح منور ہوتی ہے تو دل بھی روشن ہو جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کے لیے مضبوط ہو جاتا ہے، جب روح نورِ الٰہی سے روشن ہوتی ہے تو وہ اسی نور کی طرف پرواز کرتی ہے اور فنا ہو جاتی ہے۔

عارف ہر لمحہ خدا کی الگ الگ تجلیاں دیکھتا ہے کیوں کہ حقیقت کا کوئی کنارہ نہیں، یہ ایسا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور عارف کا دل ایسا سمندر ہے جس پر کوئی نشان نہیں۔

اگرچہ صوفیہ کے پاس دنیا کی کوئی چیز نہ ہو اور وہ پھٹے پرانے کپڑے پہنے ہوئے ہوں، تب بھی وہ خدا سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں جہانوں کے بادشاہ ہوتے ہیں۔

اے فرزند! فرصت کو غنیمت جانو اور دن رات علم کے حاصل کرنے میں انتہائی کوشش کرو کہ علم حاصل کرنے کا وقت یہی ہے اور ہمیشہ طہارت، ادائے فرائض و سنن اور نوافل میں خشوع و خضوع اور تعدیلِ ارکان کے ساتھ اس طریقہ پر کہ جس طرح ہم کو صاحبِ شریعت نے تعلیم دی ہے لگے رہو کہ اس کام پر استقامت کرنے سے دوجہاں کی سعادت اور دولت جاودانی اور بے شمار برکتیں اور رحمتیں حاصل ہوتی ہیں اور(یہ بھی) تمہیں جاننا چاہیے کہ مقصود علم سے عمل ہے کہ کل قیامت کے دن عمل کے متعلق پوچھا جائے گا نہ کہ کثرت علم کے متعلق اور عمل کا مقصود اخلاص اور حق تعالیٰ کی محبت ہے۔

درویش وہ ہے جو دن رات اس کی عبادت میں ڈوبا رہتا ہے، درویش وہ نہیں جو گدھے کی طرح کھائے اور گدھے کی طرح سوئے۔

وہ الٰہی جمال کا مشاہدہ جو کسی ولی کو حاصل ہوتا ہے، کبھی بھی تارکِ دنیا اور عبادت گزاروں کو نصیب نہیں ہوتا، جو ظاہری عبادتوں، تسبیح اور نماز کے چکر میں راضی ہیں، وہ حقیقی محبتِ دوست سے بے خبر ہیں، ان ظاہری پرستش کرنے والوں کی مثال ایسی ہے جیسے عورتیں صرف ظاہری زیب و زینت میں خوش ہوں، حالاں کہ حقیقت میں ان کا دل اور روح خالی ہیں۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے