Sufinama
noImage

اوگھٹ شاہ وارثی

دیا برابر دھرم نہیں پرپنچ برابر پاپ

پریم برابر جوگ نہیں گرمنتر برابر جاپ

سجنی پاتی تب لکھوں جو پیتم ہو پردیس

تن میں من میں پیا براجیں بھیجوں کسے سندیس

روکے کام کامنا اندری راکھے سادھ

سندر کے تب درشن کرے نہیں تو ہے اپرادھ

سادھو اوگھٹؔ سبد کو سادھے جوگی کرے سب جوگ

اس ڈگریا ملیں گسائیں ندی ناؤ سنجوگ

دیا گرو کی دن دونی اور گرو نہ چھوڑے ہاتھ

گرو بسے سنسار میں اور گرو ہمارے ساتھ

اوگھٹؔ پوجا پاٹ تجو لگا پریم کا روگ

ست گرو کا دھیان رہے یہی ہے اپنا جوگ

جاپ جوگ تپ تھیرتھ سے نرگن ہوا نہ کوئی

اوگھٹؔ گرو دیا کریں تو پل میں نرگن ہوئی

جوگی بھوگ وہ کرے جو بن مانگے مل جائے

اوگھٹؔ دنیا یوں تجے کہ من میں لوبھ نہ آئے

اگم سمندر پاپ کا بوجھا ناؤ پھنسی منجدھار

اوگھٹؔ گرو کا دھیان رہے کریں گے بیڑا پار

آسن مارو دبدھا چھانڑو اپنی سدھ بسراؤ

ملیں گے کایا کوٹ میں پربھو اوگھٹؔ کہیں نجاؤ

رام ملن کا لیکھاسن لے ہاتھ گرو کا تھام

جگ کی ممتا من سے چھوٹے ملیں گے اوگھٹؔ رام

کان کھول اوگھٹؔ سنو پیا ملن کی لاگ

تن تنبورہ سانس کے تاروں باجے ہر کا راگ

اوگھٹؔ جوگ جوگی کرے رام ملن کی آس

پریم دھیان وہ جوگ ہے جو کرے دھرم کی ناس

اوگھٹؔ رہو پریم کے بھگتی جب تک گھٹ میں پران

پوجا کرو کرشن کا اور جمنا میں اشنان

گیانی پنڈت یوں کہیں سورج کی دیکھو دھوپ

سندر تریا سڈول پتر نارائن کا روپ

سائیں کا گھر دور ہے اور سائیں من کے تیر

سائیں سے بیوہار کرے اوگھٹؔ وہی فقیر

ان ہونی کے سونچ میں بسری ہر کی یاد

جنم امول لکھ اپنا اوگھٹؔ ہوا برباد

اپنی گانٹھ کوڑی نہیں پروہنی ہیں دین دیال

اوگھٹؔ جگ میں دھنی کا داسی ہوت نہیں کنگال

سائیں ایسا مگن کرو رہے نہ سونچ بچار

دکھ میں سکھ میں کلیس میں گاؤں بھجن تہار

اوگھٹؔ سانچ کو آنچ نہ لاگے جانت ہے سنسار

سائیں دھنی ہے دکھ نہ آوے سانچا رہے بہوار

اوگھٹؔ ہر کو چار النگ ڈھونڈت ہے سنسار

بغل میں بچا نگر ڈھنڈھورا اس کا نہیں بچار

رین اندھیری باٹ نہ سمجھی تاک میں ہیں ہر بار

اوگھٹؔ دھرم یہ راکھنا گرو کریں نستار

پیتم سوت سندر سہی پر ہمیں بھی تمرے آس

بھولے بھٹکے آؤ گسائیں کبھی تو ہمرے پاس

گرو ہمارا ایک ہے اور بچن ہمارا ایک

کریں گے سیوا ایک کی گرو جو راکھے ٹیک

نارائن کا انت نہ پایا مالا جپ کا کین

رام ملن کی بدھ سن اوگھٹؔ پہلے گر کو چینہ

میں پاپن سن بانسریا گئی کرشن کے پاس

بانہہ گئے من موہ لیا اور کیں دھرم کی ناس

اوگھٹؔ جنم میں ایک بیر ستی ہوت ہے نار

پریم اگن میں جلے پریمی دن میں سو سو بار

لکڑ تاپئے دھرم بڑھے تپشی کہاوے سنت

پریم اگن اوگھٹؔ کرے دین دھرم بسمنت

دکھیا رہے پریم کا بھگتی نینن نیر بہائے

بھولے بھی سکھ پاس نہ آوے من کی پیر کلپائے

مکتی ہووے کلیس کٹے چھٹے جنم کا پاپ

ست گرو کے نام کا اوگھٹؔ ہردے مالا جاپ

دیکھے پنڈت سادھو جوگی سنت سادھ ملنگ

پریم کا بھگتی ایک نہ پایا اوگھٹؔ چار النگ

اوگھٹؔ گھٹ میں پران بسے اور پران بیچ اک چور

جو پکڑے اس چور کو وہ جوگی بر جور

گرو ہمارا جنم کا راجہ گرو ہمارا آدی

اوگھٹؔ گرمنتر کو جاپو گرو کی راکھو یاد

من متھرا دل دوارکا سیوا کرو دن رین

نس دن اوگھٹؔ ملے گسائیں ہوا جنم کا چین

کدہی مہتیا موہ نہ آوے اوگھٹؔ کونے کاج

کبری ایسی پریت کرو کہ ملیں کرشن مہراج

ہر ہر میں اوگھٹؔ ہر بسیں ہر ہر کو ہر کی آس

ہر کو ہر ہر ڈھونڈ پھرا اور ہر ہیں ہر کے پاس

مدھو پیو پریم کا بن میں کرو استھان

من موہن کے درمیان میں اوگھٹؔ تجو پران

چیلا نین جوت گرو گیانی بچن یہ بوجھ

بن جوت نین آندھر اوگن بن گر پڑے نہ سوجھ

بوڑھی مورت پیر کہاوے میرا پیر جوان

اوگھٹؔ اپنے پیر کی صورت کو پہچان

بانہہ گہی مجھ پاپن کی تب ایک بچن سن لیؤ

نس دن بپتا پڑے گسائیں اپنا درشن دیؤ

اوگھٹؔ چیلا وہ گنی جو بن گرو تجے نہ سانس

سوتے جگتے دھیان رہے گرو کو راکھے پاس

گرو گوبند کو ایک بچارو دبدھا دکھ نکال

گرو کو اوگھٹؔ اور نجانو گر دھن دین دیال

اوگھٹؔ جوگی وہ بنے باندھے وہی لنگوٹ

تجی کٹم کی مامتا اور ہوے من کی کھوٹ

ہاتھ نہ آتا پیٹتے اوگھٹؔ سدا لکیر

صدقے اپنے پیر کے جس نے کیا فقیر

اوگھٹؔ مسجد مندر بھیتر ایک دھیان سمائے

پیچھے دیویں رام درس جو پہلے دبدھا جائے

نینن نیر بہائے کے پونجی گئے سب ہار

اوگھٹؔ ہاتھ پسار چلے سائیں کے دربار

سوتے ساری رین کٹی بھور بھئے اب چیت

اوگھٹؔ چڑیا کال کی چگے گی تیرا کھیت

پاتی لکھنا بھول ہے سجنی چتر ہیں دین دیال

آس گیانی دوسر نہیں کہ جانیں من کا حال

سکھی نہ پایا ٹھور ٹھکانا پیگ پھرا چہو‌ دیس

ساجن کا گھر دوار نہیں بھیجوں کہاں سندیس

پاتی لکھوں تو بھول بڑی بتھا کہے اگیان

جانت ہیں وہ بن کہے پیتم چتر سجان

Added to your favorites

Removed from your favorites