Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
noImage

بحر لکھنوی

بحر لکھنوی کے اشعار

جبین یار سے افشاں کی دیکھی ذرہ افشانی

خوشی کے پھول جھڑتے ہیں چراغ ماۂ انور سے

غضب میں جان ہے ہر دم دعا’ کرتا ہوں، داور سے

محبت جائے دل سے یہ بلا نکلے مرے گھر سے

خدا کو یاد کر کیوں ملتجی ہے کیمیا گر سے

کہ سونا خاک سے ہوتا ہے پیدا لعل پتھر سے

خدا کو یاد کر کیوں ملتجی ہے کیمیا گر سے

کہ سونا خاک سے ہوتا ہے پیدا لعل پتھر سے

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے