بحر لکھنوی کے اشعار
جبین یار سے افشاں کی دیکھی ذرہ افشانی
خوشی کے پھول جھڑتے ہیں چراغ ماۂ انور سے
غضب میں جان ہے ہر دم دعا’ کرتا ہوں، داور سے
محبت جائے دل سے یہ بلا نکلے مرے گھر سے
خدا کو یاد کر کیوں ملتجی ہے کیمیا گر سے
کہ سونا خاک سے ہوتا ہے پیدا لعل پتھر سے
خدا کو یاد کر کیوں ملتجی ہے کیمیا گر سے
کہ سونا خاک سے ہوتا ہے پیدا لعل پتھر سے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere