رشید وارثی کے اشعار
رنج و غم میں سکڑنا کھیل سمجھے ہو رشیدؔ
چاہیے پتھر کا دل صدمے اٹھانے کے
چین ہی چین ملا تم سے محبت کر کے
دولت عشق ملی گھر کا کیا کچھ بھی نہیں
عشق تھا اپنے زعم میں عشق کو ضد بنی رہی
قصہ ہوا نہ مختصر عمر تمام ہو گئی
ان کا خط آنے سے تسکین ہوئی تھی دل کو
جب یہ دیکھا کہ لکھا کیا تو لکھا کچھ بھی نہیں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere