برقؔ وارثی کے اشعار
ہر اک ادا کو تری لا جواب کہتے ہیں
ستم کو بھی کرم بے حساب کہتے ہیں
مسرتیں بھی ہیں اے برقؔ غم کا آئینہ
سکون کو بھی تو ہم اضطراب کہتے ہیں
تمہارا آئینۂ دل ہے کچھ غبار آلود
تم اپنے آئینۂ دل کو تابدار کرو
ہر ایک جزو ہے آئینہ وسعت کل کا
ہر ایک حرف کو ہم ایک کتاب کہتے ہیں
مسرتیں بھی ہیں اے برقؔ غم کا آئینہ
سکون کو بھی تو ہم اضطراب کہتے ہیں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere