تمام
غزل45
شعر8
ای-کتاب5
ویڈیو 5
تعارف
کلام11
بلاگ2
فارسی کلام2
فارسی صوفی شاعری4
صوفیوں کے مکتوب2
بیت3
نعت و منقبت2
بسنت3
ہولی18
گیت50
مناجات1
شاہ تراب علی قلندر کے اشعار
سپنے میں آنکھ پیا سنگ لاگی
چونکی پڑی پھر سوئی نہ جاگی
محبت جب ہوئی غالب نہیں چھپتی چھپانے سے
فغان و آہ و نالہ ہے ترے عاشق کا نقارا
سییاں سنگ کس مورا لاگو نینوا
آنکھ لغت نہیں نیند پڑت نہیں
نہ ہوتا آئینہ ہرگز مقابل
تو اپنا حسن چمکایا تو ہوتا
ایسے نٹھر سے کام پڑو ہے
آنکھ لگائے میں جی سو گئی
جب سو گئے تم آنکھ لگائے
کیسے ترابؔ پیا کو بھولوں
کاہے تو موسے آنکھ چراوت
سن مکھ تورے میں آپے نہ ہونگی
شری ورشبھانو کشوری رے لوگو
موری تو آنکھ تراب سو لاگی
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere