تلاش کا نتیجہ "kulliyat e meer volume 005 meer taqi meer ebooks"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
فقیرانہ آئے صدا کر چلےمیاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
ہنگامہ گرم کن جو دل ناصبور تھاپیدا ہر اک نالے سے شور نشور تھا
تلوار کے تلے ہی کاٹی ہے عمر ساریابروے خم سے اس کے ہم کو نہیں ہے ڈر کچھ
میں گریۂ خونیں کو روکے ہی رہا ورنہاک دم میں زمانے کا یاں رنگ بدل جاتا
تند مے اور ایسے کمسن کے لیےساقیا ہلکی سی لا ان کے لیے
جوں شمع نہ راز دل کہوں گاایسی بھی مری زباں نہیں ہے
جفا سے غرض امتحان وفا ہےتو کہہ کب تلک آزماتا رہے گا
مثل شرر تنگ چشم ہستی بے بود ہےدیکھ نہ سکتا اسے ٹک بھی جدھر دیکھنا
ہوں کشتہ تغافل ہستی بے ثباتخاطر سے کون کون نہ اس نے بھلا دیے
گلیم بخت سیہ سایہ دار رکھتے ہیںیہی بساط میں ہم خاکسار رکھتے ہیں
اے دردؔ ہم سے یار ہے اب تو سلوک میںخط زخم دل کو مرہم زنگار ہو گیا
باہر نہ آ سکی تو قید خودی سے اپنیاے عقل بے حقیقت دیکھا شعور تیرا
ہم نے کس رات نالہ سر نہ کیاپر اسے آہ کچھ اثر نہ کیا
اس ہستئ خراب سے کیا کام تھا ہمیںاے نشۂ ظہور یہ تیری ترنگ ہے
یارو مرا شکوا ہی بھلا کیجیے اس سےمذکور کسی طرح تو جاکے کیجیے اس سے
نے خانۂ خدا ہے نہ ہے یہ بتوں کا گھررہتا ہے کون اس دل خانہ خراب میں
ہم کب کے چل بسے تھے برائے مژدہ وصالکچھ آج ہوتے ہوتے سرانجام رہ گیا
ہے اپنی یہ صلاح کہ سب زاہدان شہراے دردؔ آ کے بیعت دست سبو کریں
مانع نہیں ہم وہ بت خود کام کہیں ہوپر اس دل بیتاب کو آرام کہیں ہو
اطفائے نار عشق نہ ہو آب اشک سےیہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books