تلاش کا نتیجہ "shaakh"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
شاخ پر خون گل رواں ہے وہیشوخیٔ رنگ گلستاں ہے وہی
ہر شاخ ہر شجر سے نہ تھا بجلیوں کو لاگہر شاخ ہر شجر پہ مرا آشیاں نہ تھا
برگد کی اک شاخ ہٹا کرجانے کس کو جھانکا چاند
گو ہمارا ہے آشنا رے سجنتو نہ کر اس قدر جفا رے سجن
پھر صبا سایۂ شاخ گل کے تلےکوئی قصہ سناتی رہی رات بھر
چھپا نہیں جا بہ جا حاضر ہے پیاراکہاں دو چشم جو ماریں نظارہ
شاخ شمشاد پہ قمری سے کہو چھیڑے ملارنونہالان گلستاں کو سنائے یہ غزل
کلی چٹک کے ہر ایک شاخ سے نکلتی ہےصراحی پھرتی ہے مے کی پیالی چلتی ہے
جو ہم اجڑے ہوؤں پر مہرباں ہو چرخ اے گلچیںبجائے برگ پیدا ہوں نشیمن شاخساروں میں
سنتے ہیں کہ محشر میں پھر جلوہ گری ہوگیکیا شاخ تمنا پھر اک بار ہری ہوگی
پھولوں کا قافلہ ہے کہ اتری ہے یہ براتہر شاخ گل ہے پاؤں عروس بہار کا
اڑ گیا تو شاخ کا سارا بدن جلنے لگادھوپ رکھ لی تھی پرندے نے پروں کے درمیاں
ہم اس کو ہی سمجھیں گے شاخ شجر الفتجو آب سے سوکھے گی آتش سے ہری ہوگی
کس قدر روشن ہے پہلو سے شبستان بہارشاخ ہر گلبن کی ہے سرو چراغان بہار
نغمہ کسی نے ساز پر چھیڑا تو رو دیےغنچہ کسی نے شاخ سے توڑا تو رو دیے
شیخ جی تشریف یوں بہر زیارت لے چلےلب پہ توبہ ان بتوں کی دل میں الفت لے چلے
ملے گی شیخ کو جنت ہمیں دوزخ عطا ہوگابس اتنی بات ہے جس کے لیے محشر بپا ہوگا
اشاروں سے نگاہوں سے بہت کچھ منع کرتا ہوںقفس ہی پر جھکی پڑتی ہے شاخ آشیاں پھر بھی
چہرے وہ لائے ہیں عاشق کے مرغ جاں کے لئےغضب کی شاخ نکالی ہے آشیاں کے لئے
بے پر و بال ہوں طاقت نہیں اڑنے کی صبااک ذرا شاخ نشیمن کو جھکا رہنے دے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books