عرفان اسلام پوری کے اشعار
دین و مذہب سے ترے عاشق کو اب کیا کام ہے
وہ سمجھتا ہی نہیں کیا کفر کیا اسلام ہے
عاشق ہے گلعذار کس کا
دل اس کا ہے داغ دار کس کا
یہ حال کھلا نہ کچھ بھی عرفاںؔ
ہے تجھ کو یہ انتظار کس کا
نسبت تو ہے بس اسی سے سب کو
گل اس کے ہوئے تو خار کس کا
کیوں نہ دوزخ بھی ہو جنت مجھے جب خود وہ کہے
اس گنہ گار کو لے جاؤ یہ مغفور نہیں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere