محبوبؔ وارثی گیاوی کے اشعار
دم توڑ رہا ہے دیکھ ذرا عاشق ہے ترا کشتہ ہے ترا
اے موہنی صورت والے حسیں محبوب کو یوں برباد نہ کر
کوشش تو بہت کی میں نے مگر قسمت کی نہ تھی کچھ اپنی خبر
لے صبر سے کام دل مضطر جب داد نہیں فریاد نہ کر
اب دل کا ہے ویران چمن وہ گل ہیں کہاں کیسا گلشن
ٹھہرا ہے قفس ہی اپنا وطن صیاد مجھے آزاد نہ کر
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere