تمام
غزل60
شعر11
صوفیانہ مضامین9
ای-کتاب3
ویڈیو 7
تعارف
کلام8
فارسی کلام7
رباعی5
بیت1
نعت و منقبت8
قطعہ1
سہرا1
سلام1
میکش اکبرآبادی کے اشعار
اس ادا سے میں نے دیکھے داغ اپنے خون کے
اک تماشا روز محشر ان کا داماں ہو گیا
تری آمادگی قاتل تبسم ہے محبت کا
توجہ گر نہیں مضمر تو قصد امتحاں کیوں ہو
میں نے پوچھا غیر کے گھر آپ کیا کرتے رہے
ہنس کے فرمایا تمہارا راستا دیکھا کئے
یہ فریب تسکیں ہے ترک آرزو معلوم
ترک آرزو میکشؔ یہ بھی آرزو ہی ہے
میں نے پوچھا غیر کے گھر آپ کیا کرتے رہے
ہنس کے فرمایا تمہارا راستا دیکھا کئے
ترے کوچے کی ہو جائے تو اچھا
خدا جانے یہ مٹی ہے کہاں کی
زیست میری اور یہ ایام فراق
اے امید وصل تیرا کام ہے
یا درز کھل گئی ہے کوئی آسمان کی
دنیا کو جھانکتی ہے تپش اس جہان کی
تو حقیقت کل ہے وہم غیر باطل ہے
بلکہ وہم باطل بھی حق تو یہ ہے تو ہی ہے
دل مٹا جاتا ہے آج ان کا یہ عالم دیکھ کر
شرمگیں ہیں غیر سے سرگوشیاں ہونے کے بعد
سہتے سہتے غم محبت کے یہ حالت ہو گئی
ہنس کے بولا جو کوئی اس سے محبت ہو گئی
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere