رند لکھنوی کے اشعار
مشترک شب سے ہوا خون جگر اشکوں میں
رات سے رنگ بدلنے لگے آنسو اپنا
رام کس طرح کریگا کوئی صیاد اسے
اپنے سائے سے بھی رم کرتا ہے آہو اپنا
پشت پا ماریں نہ کیوں ہمت گردوں پر رندؔ
شل نہیں فضل خدا سے ابھی بازو اپنا
بو گل سے مجھے دھوکہ نہ دے اس کی بو کا
چوچلا رہنے دے بعد سحری تو اپنا
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere