Font by Mehr Nastaliq Web
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے صوفی اقوال

25
Favorite

باعتبار

جو شخص اپنی آنکھ کی حفاظت نہیں کرتا اس کا دل بے قیمت ہو جاتا ہے۔

سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔

جو درخت جتنا زیادہ پھل دیتا ہے اس پر اتنے زیادہ پتھر آتے ہیں۔

جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔

اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔

اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔

عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔

جو شخص قرض لے اور دینے کی نیت نہ ہو وہ چور ہے۔

ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔

جب تک تم کوئی چیز نہ خرید لو، تب تک پرانی چیز مت پھینکو۔

وہ دوزخ جس میں قاعد مساوات ہو، اس جنت سے بہتر ہے جس میں تفریق و درجات ہوں۔

دوسروں کو نصیحت اس وقت کرنے چاہیے جب خود بھی تمام برائیوں سے پاک ہو جائے۔

پریشانی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ خیالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔

دنیا میں ان ہی لوگوں کی عزت ہوتی ہے جو اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں۔

کسی کے ایمان کا اندازہ اس کے وعدوں سے لگاؤ۔

وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔

جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔

محبت کرنے والوں کے باہمی جھگڑے محبت میں اضافہ کرتے ہیں۔

جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔

جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔

دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔

قومیت انسان کو انسان سے دور رکھنے کا گورکھ دھندا ہے۔

زندگی مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے اگر ایک رنگ بھی کم ہو جائے تو زندگی کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔

صدقہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

خوش آمد کی چھری، عقل و فہم کے پروں کو کاٹ کر ذہن کو پرواز کی آزادی سے محروم کر دیتی ہے۔

پیر کے ہاتھ پر بیعت دو بار ہو سکتی ہے، اگر کوئی اسے توڑ دے یا بیعت پر شک کرے تو دوبارہ بیعت کی جا سکتی ہے۔

اپنا شعار خوفِ خدا کو بناؤ اور اس مالک سے ڈرتے رہو جو تمہارے ظاہر و باطن کا حال یکساں جانتا ہے۔

وہ علم دل میں گھر کرتا ہے جس کے سکھانے میں دنیاوی لالچ نہ ہو۔

جس شخص کو نعمت کی قدر نہیں ہوتی اس کی نعمت وہاں سے زوال پذیر ہونا شروع ہوتی ہے جہاں سے اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔

کمال اور بزرگی کو غنیمت جانو اور اس کو حاصل کرنے میں جلدی کرو۔

بندہ جب خلوص دل سے عبادت کی طرف راغب ہوتا ہے تو چاروں طرف سے دنیوی مصائب و تکالیف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔

یہ بڑی خوش قسمتی ہے کہ ہم خدا کو ایک مانتے ہیں مگر یہ بڑی بد نصیبی ہے کہ ہم اس کی ایک بھی نہیں مانتے۔

کسی کی مدد کرتے وقت اس کے چہرے کی طرف مت دیکھو، ہو سکتا ہے کہ اس کی شرمندہ آنکھیں تمہارے دل میں غرور کا بیج نہ بو دے۔

ہر قوم کی عزت اور ذلت کا دار و مدار اس قوم کے علما اور امرا پر ہے۔

اچھے اعمال تو نیک اور فاجر دونوں کر لیتے ہیں لیکن معاصی سے بچنے کا اہتمام صدیق کا کام ہے۔

علما اپنے اپنے زمانے کے چراغ ہوتے ہیں کہ جن سے اس وقت کے اہلِ زمانہ روشنی حاصل کرتے ہیں۔

تکبر علم کو کھا لیتا ہے۔

جو شخص اپنے اقوال میں حیا دار ہے وہ افعال میں بھی حیا دار ہوگا۔

نیت کتنی بھی اچھی ہو دنیا آپ کو آپ کے دکھاوے سے جانتی ہے اور دکھاوا کتنا بھی اچھا ہو خدا آپ کو آپ کی نیت سے اجر دیتا ہے۔

اگر کچھ لوگ ساتھ چھوڑ دیں تو ان لوگوں کو سفر نہیں چھوڑنا چاہیے جنہیں راستہ معلوم ہے۔

در گزر کرنے میں اس کا درجہ بلند ہے جو سزا دینے میں سب سے زیادہ قدرت رکھتا ہے۔

اپنےگھر کی باتیں باہر کے لوگوں کو نہ بتاؤ، تمہاری غیر موجودگی میں لوگ تمہارا مذاق اڑائیں گے۔

حسد کرنے والا موت سے پہلے مر جاتا ہے۔

ہوتا یہی ہے کہ جو زیادہ قسمیں کھائے وہ جھوٹا نکلے، جو حد سے بڑھے چاپلوسی کرے وہ منافق ہو، جو ہر وقت ہنسنے ہنسانے میں مگن رہے اس کا دل مردہ ہو، جو ہر دل عزیز بننے کا خواہاں ہو وہ حق بات سے کترائے، جو شیخی مارے وہ کھوکھلا ہو اور جو بے حیائی اختیار کرے وہ معاشرے کے لیے خطرناک بن جائے۔

جاہل کو خدا کی معرفت نہیں ہوتی اس کے دل میں خدا کا خوف نہیں پیدا ہوتا اور نہ ہی ایسا شخص صحیح معنوں میں خدا کی تعظیم و طاعت بجا لا سکتا۔

ظلم عدل کو کھا جاتا ہے۔

غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

دنیا میں عزت کا سبب مال ہے اور آخرت کی فکر دل میں نور پیدا کرتی ہے۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے