تمام
غزل33
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 475
کلام282
دکنی صوفی شاعری4
فارسی کلام68
فارسی صوفی شاعری23
راگ آدھارت پد17
رباعی23
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت68
ابھنگ3
صوفی اقوال126
نعت و منقبت305
قطعہ2
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت10
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
- تمام
- غزل 33
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 475
- کلام 282
- دکنی صوفی شاعری 4
- فارسی کلام 68
- فارسی صوفی شاعری 23
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 23
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 68
- ابھنگ 3
- صوفی اقوال 126
- نعت و منقبت 305
- قطعہ 2
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 10
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
نا معلوم کے صوفی اقوال
اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔
ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔
اگر یہ نظریہ غور سے دیکھا جائے تو تمام گناہوں تمام برائیوں اور تمام جرائم کا سرچشمہ عدم مساوات ہے جب انسان مادی طریقہ پر ہی پیدا ہوتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ درمیانی وقفہ یعنی زندگی کے دن بھی مساویانہ طریقہ پر کیوں نہ گذار دیں۔
سب سے پرکشش سمندر وہ ہے جسے ہم میں سے کسی نے دیکھا نہیں، سب سے اچھے دن وہ ہیں جو ہم نے گذارے نہیں، سب سے پیاری باتیں وہ ہیں جنہیں میرے ہونٹ ابھی تک تم سے نہیں کہہ سکے۔
زندگی میں ایک دوست مل گیا تو بہت ہے، دو مل گیے تو بہت زیادہ ہیں، تین تو مل ہی نہیں سکتے۔
پیسہ قرض لے کر چکایا جاسکتا ہے لیکن ہمدردی وہ قرض ہے جسے انسان کبھی نہیں چکا سکتا۔
سماج کی نا مکمل حالت میں نہیں بلکہ اپنی خامی کے بارے میں سوچنے والا شخص ایک دن سماج کی تکمیل کے قابل بن سکتا ہے۔
اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خریدو اور دوسرے سے پھول، روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تمہیں جینے کا فن سکھائے گا۔
اشتراکیت دو ہی جگہوں پر قائم ہے شہد کی مکھیوں کے چھتے میں اور چیونٹیوں کے پاؤں میں۔
اچھا انسان اپنے دشمن کے لیے اس سے بہتر ہوتا ہے جتنا کہ ایک دوست کے لیے ہوتا ہے۔
اگر علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو انکساری سے کام لے اور جب علم حاصل کر لے تو اور بھی منکسر ہوجا۔
سب سے بڑی کدورت یہ ہے کہ تو دوسروں کی مصیبت کے انتظار میں اپنے دل کو اضطراب میں رکھے۔
کسی بادشاہ کے لیے بدترین رذالت یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں بزدلی دکھائے اور کمزوروں پر اپنی جرأت کا مظاہرہ کرے۔
وصال کی خوشی جدائی کے درد کو قابل برداشت بنا دیتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو درد کون سہتا۔
عقیدت کا سیدھا تعلق دل سے ہوتا ہے عقل سے نہیں، عقل عقیدت کو ختم کر دیتی ہے۔
موقع کا ہاتھ سے نکل جانا اور وقت گذر جانے کے بعد حقیقت کا علم ہونا ہی در اصل جہنم ہے۔
بے انصافی برداشت کرنے والا ہی مجرم ہوتا ہے، اگر اسے برداشت نہ کیا جائے تو پھر کوئی بھی شخص کسی سے بے انصافی نہیں کرسکے گا۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere