تمام
غزل32
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 502
کلام291
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام71
فارسی صوفی شاعری27
راگ آدھارت پد17
رباعی23
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت77
ابھنگ4
صوفی اقوال878
وار1
نعت و منقبت318
قطعہ2
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت10
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
- تمام
- غزل 32
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 502
- کلام 291
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 71
- فارسی صوفی شاعری 27
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 23
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 77
- ابھنگ 4
- صوفی اقوال 878
- وار 1
- نعت و منقبت 318
- قطعہ 2
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 10
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
نا معلوم کے صوفی اقوال
دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔
سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔
جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔
اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔
اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔
عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔
ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔
ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔
جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔
جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔
جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔
زندگی میں ایک دوست مل گیا تو بہت ہے، دو مل گیے تو بہت زیادہ ہیں، تین تو مل ہی نہیں سکتے۔
بے شک دلوں میں برے خیالات آتے ہیں مگر عقل و دانش اور خدا کا فضل و کرم انسان کو ان سے دور رکھتے ہیں۔
انسان کی اچھائی کا مدار مال و دولت اور عیش و عشرت پر نہیں بلکہ دل کی سچائی، ذہن کی صفائی اور کردار کی اچھائی پر ہے۔
صالح ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے خوشبو بیچنے والا عطار اور بھٹی پھونکنے والا لوہار۔
اگر مال دار بننا چاہتے ہو تو ضرورت سے زیادہ طلب نہ کرو یہی سب سے عمدہ دولت ہے۔
اس نازک دور میں اپنی زبان کی حفاظت کرو، اپنے مکان کو مستور رکھو، اپنے دل کی اصلاح کرو، نیک کام اختیار کرو اور برائی سے اجتناب کرو اور برائی سے اجتناب کرو دونوں جہاں میں سرخ روئی نصیب ہوگی۔
جس پر دنیا کا نشہ سوار ہو تو اسے نصیحت کرنا بے سود ہے۔اہلِ معرفت کے نزدیک اخلاص کے راستے کی طرف لے جانے والی خلوت سے بہتر کوئی شے نہیں۔
جب بندے کے دل میں خدا کا نور داخل ہو جاتا ہے تو دل میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔
ظاہری عبادات و طاعات کی قبولیت کا دار و مدار باطنی اخلاق پر ہے جو دل سے تعلق رکھتے ہیں۔
اچھے لوگوں کے درمیان دوستی جلدی قائم ہو جاتی ہے اور ٹوٹتی دیر سے ہے، اس کی مثال سونے کے پیالے جیسی ہے۔
صوفی زمین کی مانند ہے جس پر نیک اور بد ہر ایک دوڑتا ہے اور وہ بادل کی طرح ہر ایک پر سایا کرتا ہے۔
جو پاک دامنی کی زندگی جیتے ہیں ان کے پورے خاندان کو خدا پاک دامنی کی عزت سے سرفراز فرما دیتا ہے۔
یہ بدن خود کو عبدی سمجھتا ہے اور دنیا کے عیش و آرام میں لگا رہتا ہے، وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ دنیا ایک کھیل ہے۔
اپنے دوست کی سچائی کا امتحان نہ لو کیا پتا اس وقت وہ مجبور ہو اور تم غلط فہمی میں ایک اچھا دوست کھو دو۔
جس کو دنیا والے عزت و وقعت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اسے چاہیے کہ وہ خود کو بے وقعت تصور کرے تاکہ خود فریبی میں مبتلا نہ ہو۔
رہنے کے لیے مکان، پہننے کے لیے کپڑا، پیٹ بھرنے کے لیے روٹی اور بیوی دنیا داری نہیں بلکہ دنیاداری یہ ہے کہ خدا کی طرف پیٹھ کر کے صرف دنیا ہی کی طرف منہ ہو۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere