Font by Mehr Nastaliq Web
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے صوفی اقوال

24
Favorite

باعتبار

دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔

جو شخص اپنی آنکھ کی حفاظت نہیں کرتا اس کا دل بے قیمت ہو جاتا ہے۔

سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔

جو درخت جتنا زیادہ پھل دیتا ہے اس پر اتنے زیادہ پتھر آتے ہیں۔

جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔

اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔

اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔

عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔

جو شخص قرض لے اور دینے کی نیت نہ ہو وہ چور ہے۔

ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔

جب تک تم کوئی چیز نہ خرید لو، تب تک پرانی چیز مت پھینکو۔

وہ دوزخ جس میں قاعد مساوات ہو، اس جنت سے بہتر ہے جس میں تفریق و درجات ہوں۔

دوسروں کو نصیحت اس وقت کرنے چاہیے جب خود بھی تمام برائیوں سے پاک ہو جائے۔

پریشانی حالات کی وجہ سے نہیں بلکہ خیالات کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔

ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔

دنیا میں ان ہی لوگوں کی عزت ہوتی ہے جو اپنے اساتذہ کا احترام کرتے ہیں۔

کسی کے ایمان کا اندازہ اس کے وعدوں سے لگاؤ۔

وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔

جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔

نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔

محبت کرنے والوں کے باہمی جھگڑے محبت میں اضافہ کرتے ہیں۔

جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔

جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔

قومیت انسان کو انسان سے دور رکھنے کا گورکھ دھندا ہے۔

خیالات و تفکرات کے ہجوم کے وقت اپنے معاملات کو رب کے حوالے کر دو۔

زندگی میں ایک دوست مل گیا تو بہت ہے، دو مل گیے تو بہت زیادہ ہیں، تین تو مل ہی نہیں سکتے۔

اپنے کاموں کی بنیاد قہر و غضب کی بجائے محبت و آشتی پر رکھو۔

بے شک دلوں میں برے خیالات آتے ہیں مگر عقل و دانش اور خدا کا فضل و کرم انسان کو ان سے دور رکھتے ہیں۔

خوشیاں بانٹنے ہی سے سچی خوشی حاصل ہوتی ہے۔

انسان کی اچھائی کا مدار مال و دولت اور عیش و عشرت پر نہیں بلکہ دل کی سچائی، ذہن کی صفائی اور کردار کی اچھائی پر ہے۔

صالح ہم نشین اور برے ہم نشین کی مثال ایسی ہے جیسے خوشبو بیچنے والا عطار اور بھٹی پھونکنے والا لوہار۔

اگر مال دار بننا چاہتے ہو تو ضرورت سے زیادہ طلب نہ کرو یہی سب سے عمدہ دولت ہے۔

ایک درہم قرضِ حسنہ دینا ایک درہم خیرات کر دینے سے زیادہ باعثِ ثواب ہے۔

اس نازک دور میں اپنی زبان کی حفاظت کرو، اپنے مکان کو مستور رکھو، اپنے دل کی اصلاح کرو، نیک کام اختیار کرو اور برائی سے اجتناب کرو اور برائی سے اجتناب کرو دونوں جہاں میں سرخ روئی نصیب ہوگی۔

جس پر دنیا کا نشہ سوار ہو تو اسے نصیحت کرنا بے سود ہے۔اہلِ معرفت کے نزدیک اخلاص کے راستے کی طرف لے جانے والی خلوت سے بہتر کوئی شے نہیں۔

وہی آدمی عقلمند ہے جو اپنے دل کو صاف کرتا ہے۔

جب بندے کے دل میں خدا کا نور داخل ہو جاتا ہے تو دل میں وسعت پیدا ہو جاتی ہے۔

ظاہری عبادات و طاعات کی قبولیت کا دار و مدار باطنی اخلاق پر ہے جو دل سے تعلق رکھتے ہیں۔

اچھے لوگوں کے درمیان دوستی جلدی قائم ہو جاتی ہے اور ٹوٹتی دیر سے ہے، اس کی مثال سونے کے پیالے جیسی ہے۔

انسانوں کی بے غرض خدمت کرنا انسانیت کی معراج ہے۔

صوفی زمین کی مانند ہے جس پر نیک اور بد ہر ایک دوڑتا ہے اور وہ بادل کی طرح ہر ایک پر سایا کرتا ہے۔

جو پاک دامنی کی زندگی جیتے ہیں ان کے پورے خاندان کو خدا پاک دامنی کی عزت سے سرفراز فرما دیتا ہے۔

دنیا کی محبت دل سے باہر رہے تو بہتر ہے ورنہ یہ تباہ کر دیتی ہے۔

یہ بدن خود کو عبدی سمجھتا ہے اور دنیا کے عیش و آرام میں لگا رہتا ہے، وہ یہ نہیں سمجھتا کہ یہ دنیا ایک کھیل ہے۔

اپنے دوست کی سچائی کا امتحان نہ لو کیا پتا اس وقت وہ مجبور ہو اور تم غلط فہمی میں ایک اچھا دوست کھو دو۔

نیک گمان رکھنا عبادتِ حسنہ میں سے ہے۔

جس کو دنیا والے عزت و وقعت کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں اسے چاہیے کہ وہ خود کو بے وقعت تصور کرے تاکہ خود فریبی میں مبتلا نہ ہو۔

رہنے کے لیے مکان، پہننے کے لیے کپڑا، پیٹ بھرنے کے لیے روٹی اور بیوی دنیا داری نہیں بلکہ دنیاداری یہ ہے کہ خدا کی طرف پیٹھ کر کے صرف دنیا ہی کی طرف منہ ہو۔

خود اعتقادی سے بہادر یقینی طور پر کامیاب ہوتا ہے۔

جو یہ سمجھے کہ اس کے نفس سے بڑھ کر کوئی اور بھی اس کا دشمن ہے تو سمجھ لینا چاہیے کہ اس نے اپنے نفس کو نہیں پہچانا۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے