تمام
غزل52
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 516
کلام293
دوہا98
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام76
فارسی صوفی شاعری27
راگ آدھارت پد17
رباعی23
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت99
ابھنگ4
صوفی اقوال878
وار1
نعت و منقبت348
قطعہ2
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام19
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت13
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
مناجات1
- تمام
- غزل 52
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 516
- کلام 293
- دوہا 98
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 76
- فارسی صوفی شاعری 27
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 23
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 99
- ابھنگ 4
- صوفی اقوال 878
- وار 1
- نعت و منقبت 348
- قطعہ 2
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 19
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 13
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
- مناجات 1
نا معلوم کے صوفی اقوال
سکون حاصل کرنے کی فکر چھوڑ دو سکون دینے کی فکر کرو تو سکون خود بہ خود مل جائے گا۔
جو شخص اعمالِ خیر کے بغیر قبر میں داخل ہوا اس کی مثال اس شخص کی طرح ہے جو سمندر میں بغیر کشتی کے داخل ہوا۔
اپنے آپ کو بے جا لالچ اور طمع سے بچاؤ کیوں کہ وہ تنگ دستی اور محتاجی کا پیش خیمہ ہے۔
اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔
عفو در گزر میں غلطی کرنا سزا میں غلطی کرنے سے بہتر ہے، غصہ کی حالت میں فیصلہ نہ کرو۔
ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔
ترقی کا زینا چڑھتے ہوئے لوگوں سے اچھا سلوک کرو نیچے اترتے ہوئے تمہیں اس کی ضرورت پڑے گی۔
وہ شخص کیسے تکبر کر سکتا ہے جو مٹی سے بنا ہو، مٹی میں ملنے والا ہو اور مٹی میں کیڑے مکوڑوں کی غدا بننے والا ہو۔
جو انسان لذیز غذاؤں سے اپنا معدہ پُر کر لیتا ہے، اس بھوکے آدمی کی درد ناک التجاؤں کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔
نفس سے زیادہ دنیا میں کوئی شے سرکش نہیں اور اگر تم یہ دیکھنا چاہتے ہو کہ تمہارے بعد دنیا کی کیا کیفیت ہوگی تو یہ دیکھ لو کہ دوسرے لوگوں کے جانے کے بعد کیا نوعیت رہی۔
جب تین شخص ساتھ میں بیٹھتے ہیں تو دو شخص کان میں بات نہ کریں اس سے تیسرے کو تکلیف ہوگی۔
جب تم کسی کو اپنا دوست بناؤ تو اپنے دل میں ایک قبرستان بنا لو جہاں تم اس کی برائیاں دفن کر سکو۔
دنیا سوچنے والوں کے لیے طربیہ اور جذبات میں بہہ جانے والوں کے لیے المیہ ہے۔
زندگی مختلف رنگوں پر مشتمل ہوتی ہے اگر ایک رنگ بھی کم ہو جائے تو زندگی کا منظر ہی بدل جاتا ہے۔
دنیا میں معزز ترین انسان پانچ قسم کے ہیں۔
(۱) زاہد عالم (۲) فقیہ صوفی (۳) متواضع دولت مند (۴) شکر گذار درویش (۵) روشن ضمیر شریف۔
جس کے دل میں احساس نہیں وہ اس اندھیرے غار کی طرح ہے جو سورج کی کرنوں سے محروم رہتا ہے۔
ہر انسان اچھا نہیں ہوتا اور ہر انسان برا بھی نہیں ہوتا بلکہ ہمیں خود اپنے آپ کو بدلنا چاہیے۔
اپنے نفس کو قابو میں رکھو، اسے من مانی نہ کرنے دو، ورنہ وہ زیادہ سے زیادہ خواہشات پیدا کرے گا۔
انسان کو دریا کی طرح سخی اور سوج کی طرح شفیق اور زمین کی طرح نرم ہونا چاہیے۔
بخل عار ہے اور بزدلی عیب اور ناداری ذہین آدمی کو ایسا گونگا بنا دیتی ہے کہ وہ اپنی حجت پیش نہیں کر سکتا اور مفلس آدمی اپنے شہر میں بھی پردیسی ہوتا ہے۔
انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ نافع علم، عمل کی دولت، اخلاص و قناعت اور صبرِ جمیل حاصل کرتا ہے، کیوں کہ ان چیزوں سے آخرت میں سرخ روئی ملے گی۔
پیار دل میں ہونا چاہیے لفظوں میں نہیں اور ناراضگی لفظوں میں ہونی چاہیے دل میں نہیں۔
اگر تمہیں ایک دوسرے کی نیتوں کا علم ہوتا تو تم ایک دوسرے کو دفن بھی نہ کرتے۔
وصال کی خوشی جدائی کے درد کو قابل برداشت بنا دیتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو درد کون سہتا۔
سب سے بڑی بے وقوفی یہ ہے کہ کام دوزخ کے لیے کیے جائیں اور توقع جنت کی کی جائے۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere