تمام
غزل31
شعر1
صوفیانہ مضامین7
ویڈیو 475
کلام281
دکنی صوفی شاعری4
صوفی ادب2
فارسی کلام69
فارسی صوفی شاعری23
راگ آدھارت پد17
رباعی23
صوفیوں کے مکتوب7
دوہرا1
بھجن4
بیت69
ابھنگ4
صوفی اقوال831
وار1
نعت و منقبت306
قطعہ2
صوفی اطلاح11
چادر3
سہرا1
سلام20
ہولی4
غسل1
مخمس13
صندل1
گیت10
قول1
کرشن بھکتی صوفی شاعری1
کرشن بھکتی سنت شاعری1
صوفی تلمیح72
- تمام
- غزل 31
- شعر 1
- صوفیانہ مضامین 7
- ویڈیو 475
- کلام 281
- دکنی صوفی شاعری 4
- صوفی ادب 2
- فارسی کلام 69
- فارسی صوفی شاعری 23
- راگ آدھارت پد 17
- رباعی 23
- صوفیوں کے مکتوب 7
- دوہرا 1
- بھجن 4
- بیت 69
- ابھنگ 4
- صوفی اقوال 831
- وار 1
- نعت و منقبت 306
- قطعہ 2
- صوفی اطلاح 11
- چادر 3
- سہرا 1
- سلام 20
- ہولی 4
- غسل 1
- مخمس 13
- صندل 1
- گیت 10
- قول 1
- کرشن بھکتی صوفی شاعری 1
- کرشن بھکتی سنت شاعری 1
- صوفی تلمیح 72
نا معلوم کے صوفی اقوال
جس شخص کو دوسروں کی عیب جوئی کرتے پاؤ اسے اپنے دوستوں کے حلقے سے خارج کر دو۔
زیادہ کھانے سے اعضا میں فتنہ پیدا ہوتا ہے، فساد برپا کرنے اور بے ہودہ کاموں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے کیوں کہ جب انسان خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے تو اس کے جسم میں تکبر اور آنکھوں میں بد نظری کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔
اگر دشمن پر قدرت مل جائے تو اس قدر کا شکر اس طرح ادا کرو کہ اسے معاف کر دو۔
رشوت انصاف کو، توبہ گناہ کو، غیبت اعمال کو، نیکی بدی کو، غصہ عقل کو اور صدقہ بلا کو کھا جاتی ہے۔
کامیابی دور اندیشی پر مبنی ہے اور دور اندیشی دانش مندی سے کام لینے پر منحصر ہے اور دانش مندی بھیدوں کی حفاظت سے وابستہ ہے۔
جب کوئی اپنی بد قسمتی کا رونا روئے تو اسے یہ مشورہ دو کہ وہ مخت کے نسخے آزمائے۔
سن لو جنت خلافِ نفس کام کرنے سے حاصل ہوگی اور دوزخ میں لوگ شہوات کی پیروی کی وجہ سے جائیں گے۔
آپ جن کی عزت کرو گے وہ آپ کو مجبور سمجھیں گے اور آپ جن سے محبت کرو گے وہ آپ کو بے وقوف سمجھیں گے۔
زندگی ہمارے بس میں نہیں مگر دوسروں کو خوش رکھنا تو ہمارے اختیار میں ہے، خوشیاں بانٹتے رہو سرخ رو ہو جاؤ گے۔
خاموشی ایک ایسے پردے کا نام ہے جس کے پیچھے لیاقت بھی ہو سکتی ہے اور حماقت بھی ہو سکتی ہے۔
خوش نصیب شخص وہ نہیں جس کا نصیب اچھا ہو بلکہ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہو۔
اتنی دھیمی آواز میں بھی نہ بولو کہ سننے والا تمہاری بات نہ سمجھ سکے اور اتنی بلند آواز میں بھی نہ بولو، جس سے سننے والا سمجھے کہ تم اسے بہرا سمجھتے ہو۔
جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں وہ لوگ خدا کو بہت پسند ہیں۔
اپنی زندگی فضول اور بے کار نہ بسر کرو کیوں کہ عمر رائیگاں گزرنے کا غمٹ اتنا اہم ہے کہ اگر انسان اس پر تمام عمر بھی روتا ہے تو کم ہے۔
خدا مصیبتوں کو قائم رکھے کیوں کہ ہم انہیں کی بنا پر اپنے دوست دشمن کو پہچان سکتے ہیں۔
دل کو قابو میں رکھنا اور اختیار ہونے کے باوجود نا جائز خواہشات پر عمل نہ کرنا ہی اصل مردانگی ہے۔
دولت سے ہم عینک خرید سکتے ہیں لیکن نظر اور آنکھ نہیں خرید سکتے، دولت سے ہم کتابیں خرید سکتے ہیں، علم نہیں خرید سکتے، دولت سے ہم ادویات خرید سکتے ہیں مگر صحت نہیں، دولت سے ہم سخاوت کر سکتے ہیں مگر عبادت نہیں، دولت سے خوشامد کر سکتے ہیں مگر خلوص نہیں۔
یہ ضروری نہیں کہ جو خوب صورت ہو وہ نیک سیرت بھی ہو، کام کی چیز اندر ہوتی ہے باہر نہیں ہے۔
حسن سلوک یہ ہے کہ اگر کوئی تم سے تعلق ختم کر دے، تکلیف پہنچائے پھر بھی تم اس کے ساتھ نیک سلوک کرو۔
ذہنی یکسوئی انسانی فتح کی طاقت ہے یہ انسانی زندگی کی تمام طاقتوں کو مرکوز کر کے ذہنی انقلاب پیدا کرتی ہے۔
صرف سر جھکانے سے کوئی نرم دل نہیں ہوتا، اس شکاری کو کیا کہو گے جو ہرن کا شکار کرتے وقت جھک کر دوہرا ہو جاتا ہے۔
دنیا اور اس کی دل فریبی پر فریفتہ نہ ہو جاؤ اس لیے کہ دنیا کی خوش نمائی گندگی اور دستیابی جدائی ہے۔
اس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا ہو۔
اگر تم توبہ میں جلدی کرو گے تو امید ہے کہ عنقریب گناہوں پر اصرار کرنے کا مرض تمہارے دل سے دور ہو جائے اور گناہوں کی نحوست کا بوجھ تمہاری گردن سے اتر جائے۔
فقیر کی شان یہ ہے کہ خدا دے تو دوسرے حاجت مندوں میں تقسیم کر دے اور خدا نہ دے تو شکر ادا کرے۔
ہم سب کے دل و دماغ میں خود مسرت کا احساس کرنے کے بجائے دوسروں کو اس بات کی تلقین دلانے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں کہ ہم مسرور ہیں۔
خدا سے مانگ اور اسی کی پناہ میں جا اور اس کو نہ بھول پس خدا یاد رکھتا ہے اپنے بندے کو جو اس کو یاد رکھتا ہے۔
تمہاری زبان منہ میں بند رہنی چاہیے اور تمہاری آنکھیں لگام میں رہنی چاہئیں، تمہارا معاملہ لوگوں سے چھپا ہو اور اس کا علم صرف خدا کو ہو۔
تم عزت کی انتہا حاصل کرنے کی فکر میں ہو جب کہ وہ خدا کی صفت ہے جس کو کوئی مخلوق حاصل ہی نہیں کر سکتی۔
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere