Font by Mehr Nastaliq Web
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے صوفی اقوال

باعتبار

جس شخص کو دوسروں کی عیب جوئی کرتے پاؤ اسے اپنے دوستوں کے حلقے سے خارج کر دو۔

تعجب ہے اس شخص پر جو دنیا کو فانی جانتا ہے اور اس کی رغبت بھی رکھتا ہے۔

صبر ایک ایسی سواری ہے جو کبھی ٹھوکر نہیں کھاتی۔

زیادہ کھانے سے اعضا میں فتنہ پیدا ہوتا ہے، فساد برپا کرنے اور بے ہودہ کاموں کی طرف رغبت پیدا ہوتی ہے کیوں کہ جب انسان خوب پیٹ بھر کر کھاتا ہے تو اس کے جسم میں تکبر اور آنکھوں میں بد نظری کی خواہش پیدا ہوتی ہے۔

جس پر نصیحت اثر نہ کرے وہ جانے کہ میرا دل ایمان سے خالی ہے۔

مخالفتِ نفس تمام عبادتوں کا سر چشمہ ہے۔

اگر دشمن پر قدرت مل جائے تو اس قدر کا شکر اس طرح ادا کرو کہ اسے معاف کر دو۔

مصیبت کو پوشیدہ رکھنا جواں مردی ہے۔

رشوت انصاف کو، توبہ گناہ کو، غیبت اعمال کو، نیکی بدی کو، غصہ عقل کو اور صدقہ بلا کو کھا جاتی ہے۔

کامیابی دور اندیشی پر مبنی ہے اور دور اندیشی دانش مندی سے کام لینے پر منحصر ہے اور دانش مندی بھیدوں کی حفاظت سے وابستہ ہے۔

جب کوئی اپنی بد قسمتی کا رونا روئے تو اسے یہ مشورہ دو کہ وہ مخت کے نسخے آزمائے۔

جو لوگ جد و جہد سے گھبراتے ہیں ان کو چاہیے کہ جنگل کی راہ لیں۔

سن لو جنت خلافِ نفس کام کرنے سے حاصل ہوگی اور دوزخ میں لوگ شہوات کی پیروی کی وجہ سے جائیں گے۔

آپ جن کی عزت کرو گے وہ آپ کو مجبور سمجھیں گے اور آپ جن سے محبت کرو گے وہ آپ کو بے وقوف سمجھیں گے۔

قلتِ عقل کا اندازہ کثرتِ کلام سے ہوتا ہے۔

زندگی ہمارے بس میں نہیں مگر دوسروں کو خوش رکھنا تو ہمارے اختیار میں ہے، خوشیاں بانٹتے رہو سرخ رو ہو جاؤ گے۔

خاموشی ایک ایسے پردے کا نام ہے جس کے پیچھے لیاقت بھی ہو سکتی ہے اور حماقت بھی ہو سکتی ہے۔

خوش نصیب شخص وہ نہیں جس کا نصیب اچھا ہو بلکہ خوش نصیب وہ ہے جو اپنے نصیب پر خوش ہو۔

نیکی بدی کو کھا جاتا ہے۔

اتنی دھیمی آواز میں بھی نہ بولو کہ سننے والا تمہاری بات نہ سمجھ سکے اور اتنی بلند آواز میں بھی نہ بولو، جس سے سننے والا سمجھے کہ تم اسے بہرا سمجھتے ہو۔

جو غصے کو پی جاتے ہیں اور لوگوں کو معاف کر دیتے ہیں وہ لوگ خدا کو بہت پسند ہیں۔

اپنی زندگی فضول اور بے کار نہ بسر کرو کیوں کہ عمر رائیگاں گزرنے کا غمٹ اتنا اہم ہے کہ اگر انسان اس پر تمام عمر بھی روتا ہے تو کم ہے۔

خدا مصیبتوں کو قائم رکھے کیوں کہ ہم انہیں کی بنا پر اپنے دوست دشمن کو پہچان سکتے ہیں۔

دل کو قابو میں رکھنا اور اختیار ہونے کے باوجود نا جائز خواہشات پر عمل نہ کرنا ہی اصل مردانگی ہے۔

جو لوگ اپنے فیصلے بدلتے رہتے ہیں وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہوتے۔

تنگ دستی پر صبر کرنے سے خدا کی طرف سے فراخ دستی حاصل ہوتی ہے۔

دولت سے ہم عینک خرید سکتے ہیں لیکن نظر اور آنکھ نہیں خرید سکتے، دولت سے ہم کتابیں خرید سکتے ہیں، علم نہیں خرید سکتے، دولت سے ہم ادویات خرید سکتے ہیں مگر صحت نہیں، دولت سے ہم سخاوت کر سکتے ہیں مگر عبادت نہیں، دولت سے خوشامد کر سکتے ہیں مگر خلوص نہیں۔

یہ ضروری نہیں کہ جو خوب صورت ہو وہ نیک سیرت بھی ہو، کام کی چیز اندر ہوتی ہے باہر نہیں ہے۔

بد خصلت وہ ہے جو لوگوں کی برائیاں ظاہر کرے اور نیکیاں چھپائے۔

حسن سلوک یہ ہے کہ اگر کوئی تم سے تعلق ختم کر دے، تکلیف پہنچائے پھر بھی تم اس کے ساتھ نیک سلوک کرو۔

ذہنی یکسوئی انسانی فتح کی طاقت ہے یہ انسانی زندگی کی تمام طاقتوں کو مرکوز کر کے ذہنی انقلاب پیدا کرتی ہے۔

صرف سر جھکانے سے کوئی نرم دل نہیں ہوتا، اس شکاری کو کیا کہو گے جو ہرن کا شکار کرتے وقت جھک کر دوہرا ہو جاتا ہے۔

جو انسان دل کی ضد کے حساب سے کام کرتا ہے وہ آخرِ کار ختم ہو جاتا ہے۔

دنیا اور اس کی دل فریبی پر فریفتہ نہ ہو جاؤ اس لیے کہ دنیا کی خوش نمائی گندگی اور دستیابی جدائی ہے۔

اچھی سوچ اچھے ذہن کی عکاسی کرتی ہے۔

جسے ایسے دوست کی تلاش ہے جس میں کوئی خامی نہ ہو اسے کبھی دوست نہ ملے گا۔

اس کھانے سے بہتر کوئی کھانا نہیں جس کو کسی نے اپنے ہاتھوں سے کام کرکے حاصل کیا ہو۔

اگر تم توبہ میں جلدی کرو گے تو امید ہے کہ عنقریب گناہوں پر اصرار کرنے کا مرض تمہارے دل سے دور ہو جائے اور گناہوں کی نحوست کا بوجھ تمہاری گردن سے اتر جائے۔

فقیر کی شان یہ ہے کہ خدا دے تو دوسرے حاجت مندوں میں تقسیم کر دے اور خدا نہ دے تو شکر ادا کرے۔

ہم سب کے دل و دماغ میں خود مسرت کا احساس کرنے کے بجائے دوسروں کو اس بات کی تلقین دلانے کی زیادہ کوشش کرتے ہیں کہ ہم مسرور ہیں۔

خدا سے مانگ اور اسی کی پناہ میں جا اور اس کو نہ بھول پس خدا یاد رکھتا ہے اپنے بندے کو جو اس کو یاد رکھتا ہے۔

تمہاری زبان منہ میں بند رہنی چاہیے اور تمہاری آنکھیں لگام میں رہنی چاہئیں، تمہارا معاملہ لوگوں سے چھپا ہو اور اس کا علم صرف خدا کو ہو۔

تاریخ ایک طرح کا گراموفون ہے جس میں قوموں کی صدائیں محفوظ ہیں۔

عورت دنیا کا سب کچھ بھول سکتی ہے مگر احسان نہیں۔

دل آئینہ کی طرح صاف رکھو اور زبان شہد کی طرح میٹھی۔

تم عزت کی انتہا حاصل کرنے کی فکر میں ہو جب کہ وہ خدا کی صفت ہے جس کو کوئی مخلوق حاصل ہی نہیں کر سکتی۔

مجھے شرم آتی ہے کہ لوگ میری وہ صفت بیان کریں جو مجھ میں نہ ہو۔

دنیا کی محبت سے فقر و زہد کا نور دل سے جاتا رہتا ہے۔

حوصلہ ایک ایسی طاقت ہے جو سخت چٹانوں کو بھی توڑ سکتی ہے۔

تنہائی احمق کے لیے قید خانہ ہے اور عالم کے لیے جنت۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے