Font by Mehr Nastaliq Web
Unknown's Photo'

نا معلوم

نا معلوم کے صوفی اقوال

باعتبار

جب تک تم کوئی چیز نہ خرید لو، تب تک پرانی چیز مت پھینکو۔

وہ دوزخ جس میں قاعد مساوات ہو، اس جنت سے بہتر ہے جس میں تفریق و درجات ہوں۔

وہ آدمی جو خوش نہ ہو، خوشی کا تصور نہیں کر سکتا۔

اگر کوئی بھلائی کا کام کرنے والے ہو تو ابھی کرو اور اگر کوئی برائی کا کام کرنے والے ہو تو اسے کل پر اٹھا رکھو۔

ملنے کی مسرت میں جدائی کا درد برداشت کر لیا جاتا ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو جدائی کبھی برداشت نہ ہوتی۔

توبہ گناہوں کو کھا جاتی ہے۔

اگر یہ نظریہ غور سے دیکھا جائے تو تمام گناہوں تمام برائیوں اور تمام جرائم کا سرچشمہ عدم مساوات ہے جب انسان مادی طریقہ پر ہی پیدا ہوتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ درمیانی وقفہ یعنی زندگی کے دن بھی مساویانہ طریقہ پر کیوں نہ گذار دیں۔

محبت کرنے والوں کے باہمی جھگڑے محبت میں اضافہ کرتے ہیں۔

خود اعتقادی سے بہادر یقینی طور پر کامیاب ہوتا ہے۔

سب سے پرکشش سمندر وہ ہے جسے ہم میں سے کسی نے دیکھا نہیں، سب سے اچھے دن وہ ہیں جو ہم نے گذارے نہیں، سب سے پیاری باتیں وہ ہیں جنہیں میرے ہونٹ ابھی تک تم سے نہیں کہہ سکے۔

قومیت انسان کو انسان سے دور رکھنے کا گورکھ دھندا ہے۔

زندگی میں ایک دوست مل گیا تو بہت ہے، دو مل گیے تو بہت زیادہ ہیں، تین تو مل ہی نہیں سکتے۔

اطمینان قدرتی دولت ہے، بے اطمینانی جعلی سکے۔

غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

جب تم سے ہو سکے ہنسو، تندرستی کا یہی راز ہے۔

صدقہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

تکبر علم کو کھا لیتا ہے۔

ظلم عدل کو کھا جاتا ہے۔

غصہ عقل کو کھا جاتا ہے۔

پیسہ قرض لے کر چکایا جاسکتا ہے لیکن ہمدردی وہ قرض ہے جسے انسان کبھی نہیں چکا سکتا۔

سماج کی نا مکمل حالت میں نہیں بلکہ اپنی خامی کے بارے میں سوچنے والا شخص ایک دن سماج کی تکمیل کے قابل بن سکتا ہے۔

تم جس سے بھلائی نہ کر سکے اس سے بھلائی کی امید نہ رکھو۔

اگر تمہارے پاس دو پیسے ہوں تو ایک سے روٹی خریدو اور دوسرے سے پھول، روٹی تمہیں زندگی دے گی اور پھول تمہیں جینے کا فن سکھائے گا۔

اشتراکیت دو ہی جگہوں پر قائم ہے شہد کی مکھیوں کے چھتے میں اور چیونٹیوں کے پاؤں میں۔

صحت صرف محنت میں ہے، محنت کے علاوہ کسی دوسری چیز سے حاصل نہیں کی جا سکتی۔

مفلس اور غریب کے لیے دولت مند بننے کا راز سچائی اور دیانتداری میں ہے۔

اچھا انسان اپنے دشمن کے لیے اس سے بہتر ہوتا ہے جتنا کہ ایک دوست کے لیے ہوتا ہے۔

اگر علم حاصل کرنا چاہتا ہے تو انکساری سے کام لے اور جب علم حاصل کر لے تو اور بھی منکسر ہوجا۔

غیبت عمل کو کھا جاتی ہے۔

سب سے بڑی کدورت یہ ہے کہ تو دوسروں کی مصیبت کے انتظار میں اپنے دل کو اضطراب میں رکھے۔

کسی بادشاہ کے لیے بدترین رذالت یہ ہے کہ وہ اپنے دشمنوں کے مقابلہ میں بزدلی دکھائے اور کمزوروں پر اپنی جرأت کا مظاہرہ کرے۔

ظالم اور مظلوموں میں تمیز کرنے سے انکار کرنا، بزدلی امن عامہ کے منافی ہے۔

کچھ لوگوں کے لیے شہید نہ ہونا ہی شہادت بن جاتا ہے۔

زندگی ایک پھول ہے اور محبت اس کا شہد۔

وصال کی خوشی جدائی کے درد کو قابل برداشت بنا دیتی ہے، اگر ایسا نہ ہوتا تو درد کون سہتا۔

موسیقی دنیا کے پاس زبردست جادو ہے۔

عقیدت کا سیدھا تعلق دل سے ہوتا ہے عقل سے نہیں، عقل عقیدت کو ختم کر دیتی ہے۔

جہاں پیسہ ہے وہاں شیطان ہے، جہاں پیسہ نہیں ہے اس سے بھی بڑا شیطان ہے۔

موقع کا ہاتھ سے نکل جانا اور وقت گذر جانے کے بعد حقیقت کا علم ہونا ہی در اصل جہنم ہے۔

آج تک کوئی ایسا عظیم انسان نہیں گذرا جو اعلیٰ چال چلن کا مالک نہ ہو۔

دشمن کو معاف کر دینا انتقام لینے کا سب سے زیادہ بہتر طریقہ ہے۔

دوسروں کے تجربوں کو جان لینا بھی ایک تجربہ ہے۔

غور کا انجام کامیابی اور غفلت کا انجام محرومی ہے۔

ساکن سمندر کی لہریں بھی متحرک ہیں۔

بے انصافی برداشت کرنے والا ہی مجرم ہوتا ہے، اگر اسے برداشت نہ کیا جائے تو پھر کوئی بھی شخص کسی سے بے انصافی نہیں کرسکے گا۔

ہم جتنا مطالعہ کرتے ہیں اتنا ہی ہمیں اپنی لاعلمی کا پتہ چلتا ہے۔

غم عمر کو کھا کر کم کر دیتا ہے۔

کسی حال میں خدا کی رحمت سے غافل نہ رہو۔

غم عمر کو کھا کر کم کر دیتا ہے۔

صحیح کام ہی دھول میں پھول کی طرح کھلتے ہیں اور مہکتے ہیں۔

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے