تلاش کا نتیجہ "fitrat"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
اگر فطرت کا ہر انداز بے باکانہ ہو جائےہجوم رنگ و بو سے آدمی دیوانہ ہو جائے
چشم کم میں واقف نیرنگیٔ فطرت نہیںایک جلوے کی فراوانی ہے یہ کثرت نہیں
مری فطرت وفا ہے دے رہا ہوں امتحاں پھر بھیوہ فطرت آشنا ہے اور مجھ سے بد گماں پھر بھی
میرے ہی غم کی ترجمان فطرت ہے دیوانہ ہومجھ کو وہ داستاں سنا جو میری داستاں نہ ہو
میں خوددار فطرت سے مجبور ہوںکسی کا سہارا لیا جائے نا
تری بیداد کا شکوہ نہیں ہےمری فطرت ہی مجبور فغاں ہے
خوددار اتنی فطرت رندانہ چاہیےساقی یہ خود کہے تجھے پیمانہ چاہیے
سوچتا تھا تیری فطرت میں وفاداری ہےکیا خبر تھی کہ محبت تیری بازاری ہے
مسکراتے ہوئے پھولوں نے کہا شبنم سےفطرت غم سے یہاں کوئی بھی آزاد نہیں
محروم ہوں لطافت فطرت سے جو نصیرؔان بے حسوں کو شعر سنایا نہ کیجیے
پوجنا خود کو صبح و شام ہے فطرت میریلوگ سمجھے نہیں کہتے رہے خوددار مجھے
ابھی کمال کو پہنچی نہیں ہے فطرت عشقکہ آدمی کو ہنوز انتظار آدم ہے
تری فطرت امیں ہے ممکنات زندگانی کیجہاں کے جوہر مضمر کا گویا امتحاں تو ہے
شاعر ہوں میں شاعر ہوں میرا ہی زمانا ہےفطرت مرا آئینہ قدرت مرا شانا ہے
جان اپنی دے دینا یہ ہماری فطرت ہےکیا کریں شکایت ہم تم سے جب محبت ہے
کمال صدق و مروت ہے زندگی ان کیمعاف کرتی ہے فطرت بھی ان کی تقصیریں
ہر گوشۂ فطرت ہے روشن مری نظروں میںاک فقر کا عالم ہے یہ میری ہمہ گیری
نگاہوں میں سمائیں کیا کرشمے حسن فطرت کےترا جلوہ ہے وافر تنگ دامان نظر اپنا
آ اے نگار فطرت روح و روان الفتسونا پڑا ہوا ہے دل کا نگار خانہ
بقدر فطرت انسانیت سیماب سیمابؔ نادم ہوںمیں دانستہ نہیں کرتا ہوں ہو جاتی ہیں تقصیریں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books