تلاش کا نتیجہ "visaal-e-manzil-o-gaam"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
گم کردہ کارواں ہوں منزل کی تمنا ہےموجوں کے تھپڑوں میں ساحل کی تمنا ہے
تو رہ نورد شوق ہے منزل نہ کر قبوللیلیٰ بھی ہم نشیں ہو تو محمل نہ کر قبول
بتان ماہ وش اجڑی ہوئی منزل میں رہتے ہیںکہ جس کی جان جاتی ہے اسی کے دل میں رہتے ہیں
گمراہ مسافر ہوں منزل کی تمنا ہےطوفان سے الجھا ہوں ساحل کی تمنا ہے
ہر قدم دورئ منزل ہے نمایاں مجھ سےمیری رفتار سے بھاگے ہے بیاباں مجھ سے
نہیں نگاہ میں منزل تو جستجو ہی سہینہیں وصال میسر تو آرزو ہی سہی
یہ جہاں بھی تو ہے اس کی آخری منزل بھی توبانیٔ محفل بھی تو ہے خاتم محفل بھی تو
منزل ہے پیچھے اور چلا جا رہا ہوں میںہر گام پر فریب ہوس کھا رہا ہوں میں
یہ دل ہے وہ مکاں جو لا مکاں والے کی منزل ہےوہ لیلیٰ ہے اسی میں یہ اسی لیلیٰ کا محمل ہے
کسی سے میری منزل کا پتا پایا نہیں جاتاجہاں میں ہوں فرشتوں سے بھی واں جایا نہیں جاتا
میں اس منزل میں ہوں یہ دل کی حالت ہوتی جاتی ہےکہ ہر صورت سزاوار محبت ہوتی جاتی ہے
اے جان غم دشمن میں شوریدہ سری کیوں ہےہم تو ابھی زندہ ہیں یہ جامہ دری کیوں ہے
دیکھنا گر ہو پیار کی آنکھیںدیکھ لو میرے یار کی آنکھیں
ہم آپ بھلے اور یار بھلابا کار بھلا بے کار بھلا
تمہاری یاد میں گمراہ ہو گیا ہوں میںتجلیات کی دنیا میں کھو گیا ہوں میں
خود چلی آئے گی لیلیٰ قیس کا دل چاہیےعشق میں تاثیر ہے پر جذب کامل چاہیے
وہ فراق اور وہ وصال کہاںوہ شب و روز و ماہ و سال کہاں
دل پہ قبضہ جمائے بیٹھے ہیںاپنے گھر میں وہ آئے بیٹھے ہیں
نظر کی منزل مقصود مہر و ماہ نہیںیہ جلوہ گاہ کے پردے ہیں جلوہ گاہ نہیں
اے فلک دے ہم کو پورا غم تو کھانے کے لیےوہ بھی حصہ کر دیا سارے زمانے کے لیے
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books