مرزا فدا علی شاہ منن کے اشعار
خدا بھی اسی کی طرف ہوگا بے شک
قیامت میں کیا ہوگا جانے سے حاصل
عیش وعشرت وصل وراحت سب خوشی میں ہیں شریک
بے کسی میں آہ کوئی پوچھنے والا نہیں
کیوں گل عارض پے تم نے زلف بکھرائی نہیں
چشمۂ خورشید میں کیوں سانپ لہرایا نہیں
کوچۂ قاتل میں جاکر ہاتھ سے رکھیں تجھے
او دل بیتاب ہم نے اس لئے پالا نہیں
وہم ہے شک ہے گماں ہے بال سے باریک ہے
اس سے بہتر اور مضمون کمر ملتا نہیں
چشم نرگس بن گئی ہے اشتیاق دید میں
کون کہتا ہے کہ گلشن میں ترا چرچا نہیں
حشر کے دن امتحاں پیش خدا دونوں کا ہے
لطف ہے انکی جفا میری وفا سے کم رہے
وقت آرائیش جو کی آئینہ پر اس نے نظر
حسن خود کہنے لگا اس سے حسیں دیکھا نہیں
خون ناحق کی شہادت کے لیے کافی ہے یہ
دامن قاتل پے جو دھبے لہو کے جم رہے
وہ ظالم ہے بے درد سفاک قاتل
اسے درد دل کا سنانے سے حاصل
سامنے میرے ہی وہ جاتے ہیں بزم غیر میں
المدد اے ضبط مجھ کو کب تک اس کا غم رہے
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere