تلاش کا نتیجہ "be-nishaa.n"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسےزمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے
آخر خدائے بے نشاں آیا نظر صفات میںسنتے تو تھے ازل سے ہی دیکھا کسی کی ذات میں
نشاں اس کا کسی سے کب بیاں ہووہی پاوے نشاں جو بے نشاں ہو
نشان بے نشانی چاہتا ہوںمکان لا مکانی چاہتا ہوں
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کاکہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
استادہ ہے ازل سے قادر نشان تیرااور تا ابد رہے گا ظاہر نشان تیرا
مسند نشین عالم امکاں تمہی تو ہواس انجمن کی شمع فروزاں تمہی تو ہو
فرقت میں ایک درد مرا ہم نشیں رہااٹھ بھی کھڑا ہوا تو یہیں کا یہیں رہا
نہیں ممکن رسائی لا مکاں تکنشاں کس طرح پہنچے بے نشاں تک
محبت کے ماروں کا کیسا ٹھکاناجہاں چل دیے بے نشاں جا رہے ہیں
لاکھ پردوں میں تو ہے بے پردہسو نشانوں پہ بے نشاں تو ہے
کچھ اس ادا سے آج وہ پہلو نشیں رہےجب تک ہمارے پاس رہے ہم نہیں رہے
نہیں ہے نام جہاں تیرا بستی سونی ہےوہ بے نشاں ہے جس جا نہیں نشاں تیرا
خوشی سے دور ہوں نا آشنائے بزم عشرت ہوںسراپا درد ہوں وابستۂ زنجیر قسمت ہوں
اے مرے ہم نشیں چل کہیں اور چل اس چمن میں اب اپنا گزارہ نہیںبات ہوتی گلوں تک تو سہہ لیتے ہم اب تو کانٹوں پہ بھی حق ہمارا نہیں
کعبہ میں کربلا میں کلیسا میں دیر میںاس بے نشاں کو ہم نے بھی ڈھونڈھا کہاں نہیں نہیں
نقش قدم کی طرح سے خانہ خراب ہوںمجھ سا کہیں جہاں میں کوئی بے نشاں نہ ہو
لاکھوں در لاکھوں ہوئے ہیں غرق ہو کے بے نشاںبحر وحدت سے جو نکلا وہ شناور اور ہے
بھڑک اے شمع کشتہ اور نگاہ جستجو بن جامری تربت کسی کو بے نشاں معلوم ہوتی ہے
بے نام و بے نشاں کے تصور میں رکھ مجھےاے دل تری قسم کہ نہ یاد خدا کروں
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books