تلاش کا نتیجہ "gulshan e qawwali seemab siddiqi ebooks"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
نسیم صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگیکسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی
آبرو کیا خاک اس گل کی کہ گلشن میں نہیںہے گریباں ننگ پیراہن جو دامن میں نہیں
سوئے ظن ہے مجھے سیمابؔ شگفت دل سےوہ بھی گلشن کوئی گلشن ہے جو صحرا ہو جائے
پڑ گئی کیا لوٹ یا رب گلشن ایجاد میںدست گلچیں میں ہے گل بلبل کف صیاد میں
وہ آزادی سے کر سکتا نہیں پرواز گلشن میںجو بیٹھا ہے اسیر احتیاج بال و پر ہو کر
وداع گردش ایام تھا ترک چمن میرانہ پھر شام خزاں آئی نہ پھر صبح بہار آئی
سیمابؔ احتجاج خلاف غم و خوشیتوہین ہے مشیت پروردگار کی
سکوں ہے کچھ اسی سے اضطراب زندگانی میںوگرنہ ذات باقی پیکر انسان فانی میں
حسن کا تذکرہ تو ہوتا ہےبرسبیل وفا نہیں ہوتا
اے جان جہاں کب تک یہ گوشۂ تنہائیسب دید کے طالب ہیں جتنے ہیں تماشائی
ابھی محرم نہیں تو اشک و آہ آخر شب کاحیات افروز ہیں آب و ہوائے دل کی تاثیریں
مسلط گلشن ہستی پے ویرانی نہیں ہوگیخدا کے نیک بندوں کو پریشانی نہیں ہوگی
یا زخم دل کو چھیل کے سینے سے پھینک دےیا اعتراف کر کہ نشان وفا ملا
جاگ اٹھی کیفیت سوز محبت سیمابؔصبح سے جان پڑی شام کے پروانے میں
وہاں تسکین خاطر چار دن سے حسن آسودہیہاں آشوب پہلو اک دل دیوانہ برسوں سے
غم واماندگی سے بے نیاز ہوش بیٹھا ہوںچلی آتی ہے آواز درائے کارواں پھر بھی
شوق سے وہ حجاب فرمائیںاب مجھے خبط جستجو ہی نہیں
جس طرح ترے لب پر عنوان بہار آیااس شان سے گلشن میں کس روز بہار آئی
مرا داغ سجدہ مٹائے کیوں فلک اس کو چاند بنائے کیوںکہ یہ داغ حاصل عاشقی ہے مری جبین نیاز میں
اپنی نگاہِ شوق کو روکا کریں گے ہموہ خود کریں نگاہ تو پھر کیا کریں گے ہم
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books