تلاش کا نتیجہ "sanjh bai chaudes sahir lakhnavi ebooks"
Tap the Advanced Search Filter button to refine your searches
کعبۂ ابرو دکھا او بت خدا کے واسطےشکل مژگاں ہاتھ اٹھائے ہوں دعا کے واسطے
کاکل جو اس کی شعلۂ رخ سے سرک گئیکالی گھٹا میں صاف یہ بجلی چمک گئی
وہ نہ آئے رات گزری اور سحر ہونے لگیزندگی منزل بہ منزل مختصر ہونے لگی
فلک سے گزری گئی تابہ لا مکاں فریادپہنچ گئی ہے کہاں سے مری کہاں فریاد
مانگیں گے اب یہ دل سے دعا ہم اٹھا کے ہاتھہو دور اضطراب یہ سب ہے خدا کے ہاتھ
سن لو کہ رنگ محفل کچھ معتبر نہیں ہےہے ایک زبان گویا شمع سحر نہیں ہے
دل بتوں پر فدا کیا میں نےبار الہ یہ کیا کیا میں نے
کوئی آیا ہے یہاں پھولنے پھلنے کے لیےمجھ کو پیدا کیا اللہ نے جلنے کے لیے
دلا اب ان کو مرا کچھ خیال ہے کہ نہیںجو پوچھتے ہیں طبیعت بحال ہے کہ نہیں
فنا ہونا محبت میں حیات جاودانی ہےکسی قاتل پہ دم نکلے تو لطف زندگانی ہے
آیا جو موسم گل تو یہ حساب ہوگاہم ہوں گے یار ہوگا جام شراب ہوگا
آرزوئے وصل جاناں میں سحر ہونے لگیزندگی مانند شمع مختصر ہونے لگی
شب فراق کی یارو کوئی سحر بھی ہےہمارے حال کی ان کو کوئی خبر بھی ہے
آسماں ہو گا سحر کے نور سے آئینہ پوشاور ظلمت رات کی سیماب پا ہو جائے گی
سحر قریب ہے تاروں کا حال کیا ہوگااب انتظار کے ماروں کا حال کیا ہوگا
اگر اے نسیم سحر ترا ہو گزر دیار حجاز میںمری چشم تر کا سلام کہنا حضور بندہ نواز میں
وہ ہٹا رہے ہیں پردہ سر بام چپکے چپکےمیں نظارہ کر رہا ہوں سر شام چپکے چپکے
پیام زیر لب ایسا کہ کچھ سنا نہ گیااشارہ پاتے ہی انگڑائی لی رہا نہ گیا
خوش رنگ و سحر کار نظاروں کو کیا ہوااللہ اس چمن کی بہاروں کو کیا ہوا
روح بے چپن ہے قالب میں تو پردا کیساراز دل اپنے مسیحا سے چھپانا کیسا
Devoted to the preservation & promotion of Urdu
Urdu poetry, urdu shayari, shayari in urdu, poetry in urdu
A Trilingual Treasure of Urdu Words
World of Hindi language and literature
The best way to learn Urdu online
Best of Urdu & Hindi Books