ولی وارثی کے اشعار
آنکھوں آنکھوں ہی میں کھل جاتے ہیں لاکھوں اسرار
درس الفت کے لیے حاجت استاد نہیں
اگر چاہوں نظام دہر کو زیر و زبر کر دوں
مرے جذبات کا طوفاں زمیں سے آسماں تک ہے
تیرے فراق میں ہر وقت آہ کرتا ہوں
تیرے لیے جوانی تباہ کرتا ہوں
فروغ حسرت و غم سے جگر میں داغ رکھتا ہوں
مرے گلشن کی زینت دور ہنگام خزاں تک ہے
برس خدا کے لیے مجھ پر اے سحاب کرم
کہ تیری آس پہ پھر اک گناہ کرتا ہوں
مجھے عیش و غم میں غرض نہیں اگر آرزو ہے تو ہے یہی
کہ امنگ بن کے چھپا رہے کوئی دل کے پردۂ راز میں
ستاتا ہے مجھے صیاد ظالم اس لیے شاید
کہ رونق اس کے گلشن کی مرے شغل فغاں تک ہے
کھلنے لگی اگر کوئی امید کی کلی
برق الم تڑپ کے گری اور جلا دیا
لوگ کہتے ہیں محبت میں خدا ملتا ہے
لیکن اپنی ہے یہ حالت کہ خدا یاد نہیں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere