شکیل بدایونی کے اشعار
ہر قدم کشمکش ہر نفس الجھنیں زندگی وقف ہے درد سر کے لیے
پہلے اپنے ہی درماں کا غم تھا ہمیں، اب دوا چاہیئے چاراگر کے لیے
قاتل کو ہے زعم چارہ گری اب درد نہاں کی خیر نہیں
وہ مجھ پے کرم فرمانے لگے شاید مری جاں کی خیر نہیں
اترا وہ خمار بادۂ غم رندوں کو ہوا ادراک ستم
کھلنے کو ہے مے خانے کا بھرم اب پیر مغاں کی خیر نہیں
میں نے بخشی ہے تاریکیوں کو ضیا اور خود اک تجلی کا محتاج ہوں،
روشنی دینے والی کو بھی کم سے کم اک دیا چاہیئے اپنے گھر کے لیے
مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں
انہیں اعتباروفا تو ہے مجھےاعتبارستم نہیں
میری زندگی پے نہ مسکرا،مجھے زندگی کا الم نہیں
جسے تیرے غم سے ہو واسطہ وہ خزاں بہار سے کم نہیں
مجھے راس آئیں خدا کرے یہی اشتباہ کی ساعتیں
انہیں اعتباروفا تو ہے مجھےاعتبارستم نہیں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere