Font by Mehr Nastaliq Web
Sufinama
Sulaiman Shikoh Gardner's Photo'

سلیمان شکوہ گارڈنر

1828 - 1904 | ایٹہ, بھارت

خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ سے وابستہ تھے۔

خانقاہ برکاتیہ، مارہرہ سے وابستہ تھے۔

سلیمان شکوہ گارڈنر کے اشعار

کیا غم جو ٹوٹ جایں جگر، جاں، کلیجہ، دل

پر تیری چاہ کی نہ تمنا شکست ہو

صورت نما ہو عشق ترا پھر کہاں، اگھر

آئینۂ جمال سراپا شکست ہو

ناز گل کا شہید ہے جو فناؔ

قبر پر گل رخوں کا میلہ ہے

ڈوبی جاتی ہے ناؤ ہستی کی

موج گریہ کا زور ریلا ہے

ناز گل کا شہید ہے جو فناؔ

قبر پر گل رخوں کا میلہ ہے

بیشک خدا بنے جو ‘فنا’ توڑے عبدیت

خودبینیوں کا اپنی جو پایا شکست ہو

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

Recitation

بولیے