امداد علی علوی کے اشعار
جسے دیکھا یہاں حیران دیکھا
یہ کیسا آئینہ خانہ بنایا
جان دی بلبلوں نے جب گل پر
تب وہ گلزار میں نظر آیا
آپ دیکھا اس نے اپنے آپ کو
ہم کو آئینہ بنایا یار نے
مٹ جائے اپنی ہستی موہوم غم ہے کیا
ہو دل کو ترا غم کوئی ہو ہو نہ ہو نہ ہو
جب تلک میری خودی باقی رہی سب کچھ تھا
رہ گیا پھر تو فقط نام خدا میرے بعد
ڈھونڈھے اسرار خدا دل نے جو اندھا بن کر
رہ گیا آپ ہی پہلو میں معمہ بن کر
گہ یار بنا گاہ بنا صورت اغیار
اپنا ہی بنا آئینی اپنا ہی پرستار
ہر آنکھ کی تل میں ہے خدائی کا تماشہ
ہر غنچہ میں گلشن ہے ہر اک ذرہ میں صحرا
مجھ سے اوول نہ تھا کچھ دہر میں جز ذات خدا
غیر حق دیکھا تو پھر کچھ نہ رہا میرے بعد
پلائے خم پے خم احسان دیکھو
مجھے ساقی نے خمخانا بنایا
علویؔ کو ز بس تھا خوف غنا کہا یار نے با ہما لطف و عطا
کیوں ڈرتا ہے آ آغوش میں آ تو اور نہیں میں اور نہیں
کشتی میں دریا دریا میں کشتی سفلی میں علوی علوی میں سفلی
طوفاں میں موجیں موجوں میں یم ہے جانے سو دیکھے دیکھے سو سمجھے
علویؔ کو ز بس تھا خوف غنا کہا یار نے با ہما لطف و عطا
کیوں ڈرتا ہے آ آغوش میں آ تو اور نہیں میں اور نہیں
aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair
jis ke hote hue hote the zamāne mere